سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 447
۴۴۷ " حج کے دن حاجی لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لا شَريكَ لَكَ لَبَّيْكَ کے نعرے لگاتے ہوئے خانہ کعبہ اور وہاں سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں۔وہ اسی نظارہ کی تمثیل ہوتی ہے گویا وہ ابراہیم کی نقل کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے منہ سے اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ جس وقت خدا نے اس سے کہا اے ابراہیم اپنے بیٹے کی قربانی کر تو اس نے قربانی کے وقت کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس خیال سے کہ اس حکم کے سننے اور قربانی کے پیش کرنے میں جو دیر لگے گی وہ میرے رب کو گراں نہ گزرے۔اس نے اسی وقت سے پکارنا شروع کیا۔لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ اے میرے رب میں حاضر ہوں۔اے میرے رب میں حاضر ہوں۔تیرا اور کوئی شریک نہیں ہے۔اے خدا میں پھر کہتا ہوں کہ میں حاضر ہوں۔اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم خدا تعالیٰ کے قربانی کے مطالبہ کو پورا کرنے میں اسی والہانہ رنگ سے کھڑا ہو تا ہے جیسا ایک سخی انسان جو درد مند دل رکھتا ہو کسی پیاسے کی آواز سن کر جو شدت پیاس سے کراہ رہا ہو دور سے ہی چلاتا ہے کہ میں پانی لا رہا ہوں پانی لا رہا ہوں تا اسے انتظار کی مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔یہ کیسا دردناک نظارہ اور عشق کا مظاہرہ ہے۔پیش تو ایک لڑکے کی جان کرنی ہے اور وہ بھی اکلوتا لڑکا اور اکلوتا لڑکا بھی وہ جو بڑھاپے میں پیدا ہوا تھا اور جس کے بعد کسی اور لڑکے کے پیدا ہونے کی بظاہر کوئی امید نہیں ہو سکتی تھی لیکن اسے پیش اس طرح کیا جاتا ہے جیسے ایک پیاسے کو پانی کا گلاس دیا جاتا ہے یا بھو کے کو کھانا دیا جاتا ہے۔لوگ آج کل چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹی چھوٹی قربانیوں کے بعد جب ان قربانیوں کے پیش کرنے والے اپنی قوم کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں تو بے اختیار ہو کر نعرے لگاتے ہیں کہ فلاں شخص زندہ باد۔مگر ابراہیم علیہ السلام نے جو کام کیا اس کے مقابل پر یہ لوگ حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں کہ ان کے لئے زندہ باد کے نعرے لگائے جائیں اور تم جانتے ہو کہ یہ عید دوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ کی آواز ہے جو مسلمانوں کے ذریعہ سے تمام دنیا سے ایک وقت میں بلند کی جاتی ہے اور جس کا اگر تمثیلی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اردو میں اس کے لئے یہی الفاظ ہوں گے کہ ابراہیم زندہ باد۔ہم جب اس عید کے موقع پر کپڑے بدلتے ہیں نہاتے ہیں، ایک مجمع میں جمع ہونے کے لئے تیاری کرتے ہیں تو گویا روحانی طور پر ہم اس امر کی تیاری کرتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی