سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 448 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 448

۴۴۸ روح کا استقبال کریں گے اور جب ہم نماز میں کھڑے ہو کر تکبیر کہتے ہیں تو دوسرے الفاظ میں ابراہیم کی قربانی کے موقع پر اپنے ہدیہ تبریک پیش کرنے کی تکبیر ہوتی ہیں کیونکہ اسلامی طریق کے مطابق جب کوئی شاندار نظارہ نظر آئے جس میں خدا کا جلال ظاہر ہو تو اس وقت تکبیر کہی جاتی ہے"۔خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور پر نعرہ تکبیر بلند کرنے کی سنت نبوی پیش کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔رسول کریم صلی اللہ کے زمانہ میں جنگ احزاب کے موقع پر دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے ایک خندق کھودنے کی ضرورت پیش آئی تھی تاکہ دشمن رات اور دن کسی وقت بھی چھاپہ نہ مار سکے کیونکہ مسلمانوں کی فوج اتنی تھوڑی تھی کہ وہ چوبیس گھنٹے ہر مقام کا پہرہ نہیں دے سکتے تھے تب آدمیوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک خندق کھودی گئی تاکہ تھوڑے آدمیوں کے ذریعہ سے بہت آدمیوں کا کام لیا جا سکے۔جب وہ خندق کھودی جارہی تھی تو ایک جگہ پر ایک پتھر نظر آیا جسے باوجود کوشش کے صحابہ نہ توڑ سکے اور انہوں نے رسول کریم ملی و و و و ویو کے پاس شکایت کی کہ ایک چٹان ایسی آگئی ہے کہ اسے توڑا نہیں جا سکتا اور خندق مکمل نہیں ہو سکتی۔تب رسول کریم ملی ایل خود اس جگہ پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ گدال میرے ہاتھ میں دو اور آپ نے زور سے گدال اس چٹان پر ماری۔ایسے زور سے کہ لوہے اور پتھر کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے ایک آگ کا شعلہ نکلا۔آپ نے فرمایا الله اكبر اور سارے صحابہ نے ساتھ کہا۔اللهُ أَكْبَرُ پھر آپ نے دوسری دفعہ گدال اٹھائی اور اپنے پورے زور سے پھر وہ کدال چٹان پر ماری اور پھر اس میں سے ایک آگ کا شعلہ نکلا اور پھر آپ نے فرمایا۔اللهُ اَكْبَرُ اور سب صحابہ نے ساتھ ہی کہا۔اللَّهُ أَكْبَرُ۔پھر آپ نے تیسری دفعہ گدال اٹھائی اور اپنے پورے زور سے کدال پتھر پر ماری اور پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا اور پھر آپ نے فرمایا۔الله اكبر اور صحابہ نے بھی اسی طرح زور سے آواز دی۔اللهُ أَكْبَرُ اس تیسری ضرب سے وہ پتھر ٹوٹ گیا۔اور صحابہ نے خندق کو مکمل کر لیا۔تب رسول کریم میں ان کی دیوی نے صحابہ سے دریافت کیا کہ تم نے تین دفعہ تکبیر کے نعرے مارے ہیں تم نے ایسا کیوں کیا۔انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ ہم نے آپ کی نقل کی آپ