سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 446 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 446

۴۴۶ اجتناب کیا ہے مگر پھر بھی وہ یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکا کہ خدا کا تعلق اس کے بندہ سے اپنے باپ اور اپنی ماں اور اپنے دوسرے رشتہ داروں سے زیادہ قریب کا ہے۔شاید میں اپنے اصل مضمون سے کسی قدر دور ہو گیا ہوں مگر جذباتی دنیا کا یہی حال ہوتا ہے۔انسان جذبات کے تابع ہوتا ہے نہ کہ جذبات انسان کے۔پس شاید جذبات مجھے بھی کہیں سے کہیں لے گئے ہیں۔میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ ابراہیم جس نے اپنے بیٹے کی قربانی خدا کے لئے پیش کی وہ دیوانہ نہیں تھا کیونکہ خدا اس کو حلیم کہتا ہے جس کے معنی دانا کے ہیں اور وہ جذبات سے عاری نہیں تھا اور سنگدل نہیں تھا کیونکہ خدا اسے اَواہ کہتا ہے جس کے معنی یہ ہے کہ اس کے جذبات نہایت ہی ابھرے ہوئے اور نازک تھے اور یہی دو سبب ہیں جن کے ماتحت انسان ان فطرتی تقاضوں کو بھول جاتا ہے جن کا پورا کرنا ہر انسان کی فطرت کا جزو ہے۔پس جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تو اس کے دلی جذبات کا اندازہ بہترین محبت کرنے والے ماں باپ کے جذبات سے کیا جا سکتا ہے۔اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ابراہیم ان محبت کرنے والے اور ان دکھ اٹھانے والے ماں باپ سے جُدا قسم کا انسان تھا جو اپنے بچے کی ایک ذراسی تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتے بلکہ لوط کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ اپنے تو الگ رہے وہ بیگانوں کا دکھ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اب تم لوط کے واقعہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہوئے اس حساس دل کا خیال کرو جو دشمن کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرتا تھا اور اس کے آرام کے لئے بھی خدا سے جھگڑتا تھا کہ جب کہ اس نے شدید ترین دشمنان مذہب اور خود اپنے خاندان کے اشد ترین مخالفوں کی تباہی کی خبر سن کر ساری رات خدا سے جھگڑے میں گزار دی اور قدم بقدم اس کے رحم سے اس اس طرح اپیل کی کہ خدا کے رحم کو مانے بغیر کوئی چارہ نہ رہا اور وہ تب تک خاموش نہ ہوا جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو گیا کہ رحم کی اب کوئی بھی صورت باقی نہیں رہی اسی ابراہیم کو جب اس کے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا تو جس ابراہیم نے دشمنوں کی ہلاکت کے لئے ساری رات خدا سے بحث کی تھی اپنے بیٹے کے متعلق اس نے ایک لفظ بھی تو نہیں کہا اور فور البیک کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور ا۔اکلوتے بیٹے کی قربانی پیش کرنے پر آمادہ ہو گیا۔