سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 411
وقت بھی آپ کے سامنے جو مقصد تھا وہ وہی تھا جس کی آپ کو زندگی بھر لگن رہی تھی کہ اسلام کو جلد فتح نصیب ہو۔اپنے عید کے مختصر پیغام میں آپ فرماتے ہیں۔تمام بھائیوں کو عید الاضحیہ مبارک ہو۔میری صحت بفضلہ ترقی کر رہی ہے۔احباب درد دل کے ساتھ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ وہ حقیقی عید کا دن بھی دکھائے جب کہ تمام مذاہب پر اسلام کو فتح نصیب ہوگی " (الفضل ۳۔اگست ۱۹۵۵ء) جنوبی ہند اور مدراس کے احمدیوں کو تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اعلیٰ تعلیم دلوں کو موہ لے گی کی طرف توجہ دلانے کے لئے ان کے نام ایک پیغام میں آپ نے تحریر فرمایا۔برادران صوبہ مدراس و جنوبی ہند! اللہ نے اسلام ایسے وقت میں بھیجا کہ جب اس سے پہلے مختلف مذاہب موجود تھے گویا دنیا کی مختلف کھیتیاں مختلف مالکوں میں تقسیم ہو چکی تھیں اور سوائے عرب کے کوئی خالی زمین رسول کریم ملی و لیوری کے لئے باقی نہیں تھی مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حکم دیا ہے کہ جَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر قرآنی دلائل کے ساتھ اپنے مخاطبین سے جہاد کرو چنانچہ رسول کریم میں لی لی ہے اور صحابہ نے اس پر عمل کیا۔کسی دشمن پر خود حملہ نہیں کیا بلکہ اگر اس نے حملہ کیا تو آپ اس کے دفاع کے لئے پہنچے تو بھی پو پھٹنے سے پہلے کبھی اس پر حملہ نہیں کیا تا کہ وہ ہشیار ہو جائے اور جنگ کے لئے تیار ہو جائے اور جب ایسی دفاعی جنگوں سے بھی آپ واپس آئے تو آپ نے فرمایا رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ ہم چھوٹے جہاد سے واپس آئے ہیں اور اب بڑے جہاد کے لئے فارغ ہیں یعنی تبلیغ کے لئے۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے تم کو جب اللہ تعالیٰ غلبہ بھی دے تب بھی تبلیغ سے غافل نہ ہو نا بلکہ اسلام کی تبلیغ لوگوں کے کانوں میں ڈالتے رہنا اور جہاں تم غالب اور زیادہ ہو وہاں ان لوگوں کے لئے امن پیدا کرنا تاکہ وہاں آکر اسلام کی تعلیم سن اور سیکھ سکیں اور جب وہ واپس وطن جانا چاہیں تو آرام سے ان کو وطن پہنچادو۔آپ لوگ اب اس حال سے گزر رہے ہیں کہ منکرین اسلام زیادہ ہیں اور