سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 412
۴۱۲ آپ کم ہیں پس آپ کا فرض تبلیغ تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اگر آپ لوگ اچھا نمونہ دکھا ئیں اور اسلام کی تبلیغ کا جوش جنون کی حد تک بڑھا دیں تو اسلام کی اعلیٰ تعلیم آج بھی دلوں کو موہ لے گی اور آپ کے خیر خواہ اور آپ کے محب کثرت سے پیدا ہو جائیں گے مگر ضرورت یہ ہے کہ اسلام کو معقول صورت میں ان کے سامنے پیش کیا جائے۔اس پیغام کے آخر میں آپ نے نصیحت فرمائی کہ ہمیشہ اپنے بھائی کی مدد کرو مگر نیکی اور تقویٰ کے متعلق گناہ اور ظلم پر کبھی اس کی مدد نہ کرو۔اپنی طبیعتوں میں سے درشتی نکال دو نرمی اور دعا پر زور دو پھر اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا اور زیادہ سے زیادہ آپ کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا۔" (بدر قادیان ۲۸ نومبر ۱۹۵۵ء) سرزمین بلال کے سادہ دل مخلص لوگوں کو امید کا پیغام دیتے ہوئے حضور نے غانا کے نام پیغام اس غلط تاثر کی تردید فرمائی کہ افریقن کسی طرح کمتر او ر ادنی درجہ کے لوگ اور ہیں آپ نے نانا کے احمدیوں کو ایک پیغام دیتے ہوئے فرمایا۔اگر آپ لوگوں کے پاس ذہانت نہیں یا دوسرے لفظوں میں آپ ایک کمتر نسل ہیں تو نعوذ باللہ یہ خدا کا نقص ہے کہ اس نے ایک ایسی قوم کی طرف اپنا مامور بھیجا جو ذہانت سے خالی تھی کہ اس کو قبول کر سکے۔لیکن معاملہ یہ نہیں ہے اسلام کہتا ہے یورپ ، امریکہ ، ایشیا، افریقہ اور دور دراز جزیروں کے سب باشندے برابر ہیں۔تمام کو قوت عقل اور قوت علم و ایجاد عطا کی گئی ہے۔گو امریکن اپنے تئیں ایک فوق البشر مخلوق سمجھتے ہیں اور یورپین سے بھی نفرت کرتے ہیں اور یورپ کے لوگ ایشیائیوں کو بہ نظر حقارت دیکھتے ہیں مگر جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے میں آپ کو یقین دلا تا ہوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ زمین پر بسنے والے تمام لوگ برابر ہیں۔ہم تمام برابر ہیں اور ایک جیسی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنی زندگی میں کبھی کسی احمدی کو یہ اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گا کہ وہ مذکورہ بالا خیالات کو جو دنیا میں رائج ہیں اختیار کرے۔بالکل اسی طرح جس طرح آنحضرت مسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ ایسے خیالات کو اپنی ایڑیوں کے نیچے کچل دیں گے۔پس میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں بھی ایسے نظریات کو اپنے پاؤں تلے مسل دوں گا۔۔