سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 29
۲۹ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحت میں بتایا گیا ہے کہ جب تک قوم کی اکثریت میں ایمان اور عمل صالح رہتا ہے ان میں خلافت کا نظام موجود رہتا ہے۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا ہماری جماعت کی شہرت نیک ہے اور کیا ہماری جماعت کے افراد کی اکثریت عمل صالح رکھتی ہے؟ اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔یہ بات ہر شخص پر ظاہر ہے کہ جماعت کی شہرت نیک ہے اور جماعت کی اکثریت عمل صالح پر قائم ہے۔پس جب ایمان اور عمل صالح کی یہ حالت ہے تو خلافت کا وعدہ بھی ضرور پورا ہونا چاہیئے۔دوسری بات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے که كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِم يعنی جس طرح پہلے خلفاء ہوئے اسی طرح امت محمدیہ میں خلفاء ہوں گے۔مطلب یہ کہ جس طرح پہلے خلفاء الہی طاقت سے بنے اور کوئی ان کی خلافت کا مقابلہ نہ کر سکا اسی طرح اب ہو گا سو میری خلافت کے ذریعہ یہ علامت بھی پوری ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خلافت کے وقت صرف بیرونی اعداء کا خوف تھا مگر میری خلافت کے وقت اندرونی اعداء کا خوف بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا۔پھر حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی حکیم الامت اور بہت سے القاب سے ملقب کیا جاتا تھا مگر میں نہ عربی کا عالم تھا نہ انگریزی کا عالم نہ ایسا فن جانتا تھا جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھر ا سکے نہ جماعت میں مجھے کوئی عمدہ اور رسوخ حاصل تھا ایسے حالات میں خدا تعالیٰ نے اس شخص کو خلافت کے لئے چنا جسے جاہل کہا جاتا تھا، جسے کو دن قرار دیا جاتا تھا اور جس کے متعلق یہ علی الاعلان کہا جاتا تھا کہ وہ جماعت کو تباہ کر دے گا۔مگر ہو تا کیا ہے وہی بچہ جب خدا کی طرف سے خلافت کے تخت پر بیٹھتا ہے تو جس طرح شیر بکریوں پر حملہ کرتا ہے اسی طرح خدا کا وہ شیر دنیا پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایک یہاں سے اور ایک وہاں سے ایک مشرق سے اور ایک مغرب سے ایک شمال سے اور ایک جنوب سے بھیڑیں اور بکریاں پکڑ پکڑ کر خدا کے مسیح کی قربانگاہ پر چڑھا دیں۔اس طرح خدا نے مجھ پر قرآنی علوم اس کثرت سے کھولے کہ اب قیامت تک امت مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں سے فائدہ اُٹھائے۔چاہے پیغامی ہوں یا مصری۔ان کی اولاد میں جب بھی دین کی خدمت کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہونگی کہ میری کتابوں کو پڑھیں۔پھر ہر خوف کو خدا نے