سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 28
۲۸ اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں سے گزر جانا آسان ہے لیکن دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نا مشکل ہے غلط ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ عزت اور شوکت اور غلبہ اور طاقت چاہو اور خدا تعالیٰ جو دنیوی انعامات دے ان کو قبول کرو لیکن اس عزت اس دولت اور اس طاقت کو خدا کے لئے اور اس کی مخلوق کی بھلائی اور بہتری کیلئے استعمال کرو۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ ہمیں عزتیں، طاقتیں اور شوکتیں نہ دے جو اس نے پہلے نبیوں کی جماعتوں کو دیں کیونکہ یہ ناشکری ہے مگر یہ دعا کرو کہ جب وہ اپنے فضل و کرم سے ترقیاں عطا کرے اور انعامات نازل کرے تو احمدی ان احسانوں کی قدر کریں اور اللہ تعالی کے لئے اس کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے خرچ کریں۔پھر یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو ہمیشہ فتنوں سے محفوظ رکھے اور جب کوئی فتنہ پیدا ہو تو اس پر غلبہ عطا کرے۔دشمنوں کی تدبیروں کو ناکام اور خائب و خاسر رکھے۔پھر یہ دعا کرو کہ خدا تعالیٰ ہمارے اعمال میں اصلاح اور برکت پیدا کرے کیونکہ جب تک نیک ارادہ کے ساتھ اعمال کی اصلاح نہیں ہوتی کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔پھر ان مبلغین کے لئے دعا کرو جن کے دل چاہتے تھے کہ آج ہمارے ساتھ ہوتے اور خدا تعالی کے اس نشان کو دیکھتے جو احمدیت کی ترقی کا اس نے ظاہر کیا ہے مگر خد اتعالیٰ کے کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں آسکے۔وہ گو جسمانی طور پر ہم سے دور ہیں لیکن ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں۔کئی ہیں جو ہمارے قریب بیٹھے ہیں اور ان کے دل دور ہیں مگر وہ جو دور بیٹھے ہیں وہ ہمارے دل میں ہیں۔ہمارے دماغ میں ہیں ہماری محبت ان کے لئے ہے اور ہم ان کے لئے دعا گو ہیں۔پھر اپنی اولادوں کے لئے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو دین کا خادم بنائے۔ان میں نسلاً بعد نسل احمدیت کو اس طرح قائم رکھے کہ وہ دین کے مخلص خدمتگار ہوں۔خدا تعالیٰ ان سے خوش ہو اور وہ خدا تعالیٰ سے خوش ہوں اور اس کی برکتوں کے ابدی وارث بنیں۔" روزنامه الفضل قادیان ۳- جنوری ۱۹۴۰ء) شکرانے اور عزم نو کے جلسہ خلافت جوبلی کے آخری روز حضور نے آیت استخلاف کی روشنی میں مسئلہ خلافت پر بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔