سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 344 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 344

۳۴۴ نبوت کی حفاظت کے لئے ان لوگوں کی مدد کیا ضرورت تھی۔ان کی ختم نبوت کا محافظ تو خود اللہ تعالیٰ ہے اور ختم نبوت کا جو مفہوم جماعت احمد یہ بیان کرتی ہے۔وہی مفہوم صحابہ کرام اور امت کے بہت سے بزرگوں نے بیان کیا۔پھر یہ مفہوم جماعت احمدیہ نے آج پیش نہیں کیا بلکہ ساٹھ سال سے پیش کر رہی ہے۔پس آج کوئی بھی ایسی نئی بات اس مسئلہ کے متعلق پیدا نہ ہوئی تھی جسے اس ہنگامہ اور ایجی ٹیشن کی وجہ قرار دیا جا سکے۔بہر حال ایجی ٹیشن اشتعال انگیزی اور جھوٹے پراپیگنڈا کے ساتھ بڑھتی چلی گئی حتی کہ حکومت کے بعض ذمہ دار افراد بھی ایک حد تک اس سے متاثر ہو گئے کیونکہ وہ اصل حالات سے ناواقف تھے۔" (الفضل یکم جنوری ۱۹۵۳ء صفحه ۲) ان فسادات کے دوران حکومت اور حکمران جماعت نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک یوری کیں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔”ہمارے خلاف ان فسادات کے ایام میں حکومت نے اکثر مقامات پر دیانتداری سے کام کرنے اور حالات کو سدھارنے کی کوشش کی۔اس نے جو اعلانات کئے وہ بھی درست تھے گو عملاً بعض مقامات پر حکومت حالات پر قابو رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔صوبائی مسلم لیگ کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا مجھے خوشی ہے کہ مسلم لیگ کا رویہ بہت اچھا رہا۔اس نے اپنے ہر اجلاس میں دلیری سے اصلی حالات کا جائزہ لیا۔پاکستان کے دوسرے صوبوں نے تو پنجاب سے بھی بہتر نمونہ دکھایا بالخصوص سرحد کے وزیر اعظم ( مراد و زیر اعلیٰ۔ناقل ) نے تو بڑی دلیری سے اس فتنے کو بڑھنے سے روکا اور اسے دبایا۔اسی طرح سندھ میں بھی شرارتیں محدود رہیں اور اب تو پنجاب میں بھی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔گو پوری طرح فتنہ دبا نہیں ہے۔" (الفضل یکم جنوری ۱۹۵۳ء صفحہ ۲) حکومت کے رویہ کے متعلق اپنی بچی تلی اور متوازن رائے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہوئے بعض افسروں کے افسوسناک طریق عمل کا ذکر فرمایا اس خطاب کے آخر میں آپ نے ایک متوکل خدا پرست رہنما کا نہایت عمدہ نمونہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اپنی حق تلفی پر احتجاج کرنے اور شور مچانے کی بجائے اس کی تلافی اس رنگ میں کرنے کی کوشش کریں گے کہ دوسروں کے مقابلہ میں ہمارا معیار ہر لحاظ سے بہتر اور بلند ہو۔گویا