سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 345
۳۴۵ اس طرح آپ نے Survival of the fittest کا نا قابل تبدیل اصول پیش کرتے ہوئے جماعت کو بہترین اخلاق و کردار کے حصول کی طرف توجہ دلائی۔آپ فرماتے ہیں۔جہاں مجھے خوشی ہے کہ اکثر مقامات پر حکومت نے دیانتداری سے کام کرنے کی کوشش کی ہے۔وہاں مجھے افسوس ہے کہ حکومت کے بعض افسروں نے ہمارے متعلق غلطیاں بھی کی ہیں۔مثلاً حکومت نے ایک اعلان میں یہ الزام لگایا ہے گو نام نہیں لیا گیا مگر اشاره ہماری ہی طرف تھا کہ احمدی افسر اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور اپنے ہم مذہبوں کو ملازمت میں بھرتی کرتے ہیں۔اسی طرح ایک ذمہ دار افسر نے کہا کہ احمدی افسر اپنے عہدے سے فائدہ اٹھا کر احمدیوں کو ناجائز الا ٹمنٹ کرتے ہیں۔جو شخص اپنے عہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ناجائز طور پر ایسے کام کرتا ہے اور اس طرح حق داروں کی حق تلفی کرتا ہے میرے نزدیک وہ نہ صرف حکومت کا مجرم ہے بلکہ قرآن کا بھی مجرم ہے کیونکہ وہ قرآن کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک فعل کا جرم ہو نا کسی کو یہ حق دے دیتا ہے کہ وہ بغیر تحقیقات کے کسی پر اس جرم کے ارتکاب کا الزام لگا دے۔کیا حکومت کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ یہ الزام لگانے سے پیشتر اس شکایت کی تحقیقات کرتی اور یوں بغیر تحقیقات کے ایک قوم پر الزام لگا کر اس کی ہتک کی مرتکب نہ ہوتی۔کیا حکومت کے لئے یہ کوئی مشکل امر تھا کہ وہ ان الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کراتی اور ان کے ثبوت بہم پہنچاتی ؟ پھر اگر یہ الزام کسی احمدی افسر کے متعلق درست ثابت ہو تا تو بے شک اسے سزا دیتی کیونکہ وہ واقعی مجرم ہے نہ صرف حکومت کا بلکہ اسلام کا بھی لیکن اگر یہ الزام درست ثابت نہ ہو تو یقینا یہ صریح بے انصافی ہے کہ ہم پر بغیر تحقیقات کے صرف اس لئے الزام لگا دیا جائے کہ ہم غریب اور کمزور ہیں۔اسلامی حکومت کا تو یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ملک کے ایک ادنیٰ سے ادنی انسان کی عزت کی بھی حفاظت کرے اور اس پر کوئی جھوٹا الزام نہ آنے دے۔کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے عرصہ میں ظفر اللہ خان کے دفتر میں کسی چوہڑے نے بھی بیعت کی ہے اور احمدیت قبول کی ہے اگر یہ نہیں ثابت کیا جا سکتا تو یقیناً ایسا الزام لگانا ظفر اللہ خان پر ظلم نہیں ہے کہ اس قوم پر ظلم ہے جس کے وہ ایک فرد ہیں۔اس کے