سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 343 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 343

۳۴۳ مسٹر غیاث الدین احمد ہوم سیکرٹری حکومت پنجاب کے نزدیک احرار۔۔۔۔۔۔عوام کے مذہبی جذبات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے سیاسی غرض سے کام لے رہے تھے۔" روزنامه ملت ۹ جنوری ۱۹۵۴ء) مسٹر ابے آر شبلی چیف ایڈیٹر زمیندار کے مطابق ان کی موجودگی میں ( مجلس احرار اور ممتاز محمد دولتانہ کے درمیان سمجھوتہ یہ ہوا تھا کہ احرار احمدیوں کے خلاف تحریک جاری رکھیں گے اور مسٹر دولتانہ صوبہ میں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔املت ۱۳۔نومبر ۱۹۵۳ء) جناب چوہدری فضل الہی صاحب جو تحقیقاتی عدالت میں حکومت پنجاب کی وکالت کر رہے تھے ( اور جو بعد میں صدر مملکت کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے) کی تحقیق کے مطابق مسٹر دولتانہ کا مقصد یہ تھا کہ خواجہ ناظم الدین کو اقتدار کی کرسی سے اتار پھینکیں۔خود اپنی قیادت میں مرکزی حکومت قائم کریں اور پاکستان کو ایک کمیونسٹ حکومت بنادیں۔" روزنامه آفاقی ۳۰ اکتوبر ۱۹۵۳ء) حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۲ء کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب فرماتے ہوئے اس لاقانونیت بد نظمی اور فتنہ و فساد کا پس منظر اور حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ :۔یہ فتنہ گذشتہ دو سال سے جاری تھا مگر اس سال اس نے خاص شدت اختیار کر لی تھی کیونکہ ملک کے بعض عناصر نے اپنی اپنی سیاسی اور ذاتی اغراض کے ماتحت احراریوں سے جوڑ توڑ کرنے اور انہیں ملک میں نمایاں کرنے کی کوشش کی۔احمدیت کی مخالفت اور اس طرح چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی مخالفت تو محض ایک آڑ تھی ورنہ اصل مقصد تو در پردہ اپنی سیاسی اغراض حاصل کرنا تھا۔اس ایجی ٹیشن کی ابتداء تو انہی عناصر نے کی جو ہمیشہ پاکستان اور مسلم لیگ کے مخالف رہے ہیں۔مگر جب انہوں نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیں بنتا تو آہستہ آہستہ ایسے مولویوں کو بھی اپنے ساتھ ملانا شروع کیا جو بظا ہر مسلم لیگ کے مخالف نہ تھے اور غیر جانبدار سمجھے جاتے تھے مگر اپنی اغراض کے ماتحت آگے آنا چاہتے تھے۔چنانچہ مختلف گروہوں میں سے ایسے ہی لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر اس کا نام مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ رکھ دیا گیا اور تحفظ ختم نبوت کے نام سے ایجی ٹیشن شروع کر دی گئی۔حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ محمد رسول اللہ می وی کو اپنی ختم