سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 342
۳۲ جائدادوں کو اپنے اندرونی بغض کی آگ کی وجہ سے آگ لگا کر جلا دیا گیا اور کوشش کی گئی کہ ان مکانوں کے مکین بھی اس آگ میں جل جائیں ، جن میں کئی مخلص ، حاسدوں کے حسد کی وجہ سے اپنے کاروبار اور ملازمت سے محروم ہو گئے ان کی ابتداء پاکبازوں کے پاکباز رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ شَافِعُ الْمُذْنِبِینَ خاتم النبین سلام کی نسبت سے " تحفظ ختم نبوت " کے نام سے شروع کی گئی۔مگر اس تحریک کو پروان چڑھانے کیلئے جھوٹ، دھوکا، بازاری زبان ، غلیظ گالیاں گندے کارٹون ، ننگ انسانیت حرکات اور ہر وہ بات کی گئی جس سے شرافت نجل اور نجابت لرزہ براندام ہو گئی۔آج بھی جب کہ اس تحریک کو اپنی موت مرے ہوئے ایک مدت گزر چکی ہے یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کاش اس دھرتی پر حضور کا نام لیکر ایسی ناپاک حرکات نہ کی جائیں کیونکہ یہ تو ایسا ظلم ہے کہ اس سے سورج تاریک ہو جائے اور چاند اپنی مدھر چاندنی کی بجائے شعلے اگلنے لگے۔اس تحریک کی ابتداء کے لئے بہانہ یہ بنایا گیا کہ کراچی کے ایک جلسہ عام میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اسلام زندہ مذہب" کے عنوان پر تقریر کی۔اس تقریر کے دوران میں ہی سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق نعرہ بازی اور خشت زنی سے جامہ کو درہم برہم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور اس کے بعد آمادہ فساد ہجوم نے کراچی میں احمدیوں کی املاک و جائداد کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔سندھ حکومت کی بروقت کوشش سے اس معاملہ پر جلد قابو پالیا گیا لیکن شرپسندوں نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے اس واقعہ کو آگے بڑھانا اور پھیلانا شروع کر دیا اور چند علماء نے جمع ہو کر حکومت کو اس امر کیلئے مجبور کرنے کیلئے مختلف طریق استعمال کرنے شروع کر دیئے کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو وزرات خارجہ سے الگ کیا جائے۔تمام احمدیوں کو کلیدی اسامیوں سے الگ کر دیا جائے۔اس تحریک کو مذہبی رنگ دے کر عوام کو مشتعل کرنے یا بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی۔مگر اصل میں اس تحریک کا تو مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا بلکہ مشہور دانشور ، صحافی اور تحریک پاکستان کے مخلص کارکن جناب حمید نظامی کے نزدیک " یہ مطالبات بعض سیاسی طالع آزماؤں نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کئے تھے۔" روزنامه ملت ۲۵- دسمبر (۱۹۵۳ء)