سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 341 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 341

۳۴۱ دعا ایک کارگر وسیلہ ہے اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔جماعت کے سب افراد میں ایک آگ سی لگ جائے۔ہر احمد ی اپنے گھر پر دعا کر رہا ہو پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کا فضل کس طرح نازل ہوتا ہے۔" (الفضل ۱۷۔نومبر ۱۹۵۱ء) اس جگہ حضرت فضل عمر کا ایک نہایت پر حکمت ارشاد جس میں آپ کی فراست و پیش بینی اور جماعت کو اخلاق کی بلندیوں پر فائز رکھنے کی خواہش اور امید کا نہایت عمدہ امتزاج پایا جاتا ہے پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" مجھے تو ان غیر احمدی مولویوں پر رحم آیا کرتا ہے جب میں خیال کیا کرتا ہوں کہ ان کی تو اب ذلت اور رسوائی کے سامان ہو رہے ہیں اور خدا نے ہمیں قوت و سطوت عطا کرنی ہے یہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایک سو سال تک اور بمشکل اس رنگ میں گزارہ کر سکیں گے۔پھر جب خدا تعالیٰ احمدیوں کو حکومت دے گا احمدی بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، الفضل کے پرانے فائل نکال کر پیش ہوں گے تو اس وقت ان بے چاروں کا کیا حال ہو گا۔مجھے خطرہ ہے کہ اس وقت کے احمدی ان کے مظالم کو پڑھ پڑھ کر اور ان کے قتل اور سنگساری کے جرائم کے حالات کو دیکھ کر ان سے کیا سلوک کریں گے۔اس وجہ سے مجھے ان پر رحم آتا ہے اور پھر اپنے اوپر بھی آتا ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ لوگ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں گے تو پھر وہ بھی اسی سزا کے مستوجب ہوں گے۔فرمایا جب تک حضرت مسیح موعود دنیا میں نہ آئے تھے وہ یہود تھے اور ان پر وہ لعنت تھی جو حضرت مسیح علیہ السلام کو نہ ماننے کی وجہ سے ان پر نازل ہوئی تھی مگر جب سے حضرت مسیح موعود آگئے ہیں تب سے ان کی اور ان مولویوں کی پوزیشن برابر ہو گئی ہے بلکہ یہ ان سے بھی گر گئے ہیں اور زیادہ قابل مواخذہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ یہود ابھرتے نظر آتے ہیں اور یہ مثیل یہود بیٹھتے چلے جارہے ہیں۔" فسادات کی ابتداء (الفضل ۱۵۔نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵) وہ ہولناک فسادات جن میں کئی خوش نصیب احمدی شہادت کے مقام پر سرفراز ہو گئے ، جن میں کئی بچے یتیم اور کئی عورتیں بیوہ ہو گئیں ، جن میں زخمی پیاسوں کی پیاس انتہائی سنگ دلی سے پانی کی بجائے ریت سے بجھائی گئی، جن میں قیمتی