سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 340
۳۴۰ خدا تعالیٰ کی خاطر مصائب و ابتلاء میں ثابت قدم رہنے والوں کے ثواب و اجر کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔پس تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے فرائض کو ادا کرو اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو رحمتیں اور برکتیں تمہیں ملنی ہیں تم انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کر لو۔ایسا زمانہ بہت کم آتا ہے اور مبارک ہوتے ہیں وہ لوگ جو ایسے زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں یہی لوگ نحوست سے دور اور خدا تعالٰی کی جنت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ جو کہا ہے کہ اس دن جنت قریب کر دی جائے گی اس کا بھی یہی مفہوم ہے کہ خدا تعالی ایسی جماعت کھڑی کر دے گا جو دین کی خدمت کرے گی اور نہ صرف یہ کہ اسے اس خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں ملے گا اسے جھاڑیں پڑیں گی اسے گالیاں دی جائیں گی۔دنیا اسے دھتکارے گی کہ وہ کیوں خدا تعالیٰ کی ہو گئی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے دین کی کیوں خدمت کر رہی ہے۔اس لئے لازمی طور پر خدا تعالیٰ اسے قبول کرے گا۔پس تم ان وقتوں کی قدر کرو اور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر لو تا خدا تعالیٰ کے سامنے بھی تم سر خرو ہو جاؤ اور آئندہ نسلوں کے سامنے بھی تمہارا نام عزت سے لیا جائے۔" الفضل ۳ فروری ۱۹۵۳ء صفحه ۳) " خدا تعالیٰ جس کی نصرت پر آتا ہے کوئی طاقت اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اگر وہ دنیوی امور میں اس طرح مدد کرتا ہے تو دینی باتوں میں کس طرح مدد نہ کرے گا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں دعاؤں کی طرف بہت کم توجہ ہو گئی ہے۔دعاؤں کی ایک رسم پڑ گئی ہے لیکن دل میں اس کا کوئی اثر نہیں رہا۔رستا سب لوگ یہی کہیں گے ہمارے لئے دعا کرنا۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ وہ کس کے لئے دعا کے لئے کہہ رہے ہیں اور وہ ان کے لئے دعا بھی کرے گایا نہیں پھر اس کا ان کے اپنے دل پر بھی اثر ہے یا نہیں۔پس راتوں کو اٹھو خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکسار کرو۔پھر یہی نہیں کہ خود دعا کرو بلکہ یہ دعا بھی کرو کہ ساری جماعت کو دعا کا ہتھیار مل جائے۔ایک سپاہی جیت نہیں سکتا جیتی فوج ہے اس طرح اگر ایک فرد دعا کرے گا تو اس کا اتنا فائدہ نہیں ہو گا جتنا ایک جماعت کی دعا کا فائدہ ہو گا۔تم خود بھی دعا کرو اور پھر ساری جماعت کے لئے بھی دعا کرو کہ خدا تعالی انہیں دعا کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ہر احمدی کے دل میں یقین پیدا ہو جائے کہ