سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 266 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 266

۲۶۶ لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے"۔(الفضل ۱۷۔جنوری ۱۹۴۵ء) خدا کے ایک بندے کے منہ سے نکلی ہوئی یہ مخلصانہ درد بھری آواز ہر قسم کے مخالف حالات کے باوجو د دار العوام اور دار الامراء کے ممبروں کے کانوں سے ٹکرائی کیونکہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے جو اس زمانہ میں وہاں مربی تھے اس خطبہ کے ضروری مضمون کا ترجمہ کر کے اس کی وسیع اشاعت کی۔(الفضل ۹ جون ۱۹۴۵ء) مشرقی افریقہ میں بھی اس آواز کی گونج سنی گئی۔چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے نے ریڈیو مشرقی افریقہ سے حضور کے خطاب کا ترجمہ نشر کیا۔یہ مخلصانہ بانگ درا انگلستان کے دار العوام اور دار الامراء کے ارکان اور مدیران جرائد کے کانوں تک کس شان سے پہنچی اس کی کسی قدر تفصیل حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بیان فرماتے ہیں۔۱۹۴۵ء کے مارچ میں چیتھم ہاؤس لندن میں رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل افیئر ز کی سرپرستی میں دولت مشترکہ کے نمائندگان کی ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہندوستان کی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھی ایک وفد نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔وفد کے اراکین میں میرے علاوہ کنور سر مہاراج سنگھ ، میر مقبول محمود ، مسٹر سی ایل مہتہ اور خواجہ سرور حسن شامل تھے۔افتتاحی اجلاس میں ہر وفد کے قائد سے پانچ پانچ منٹ کی تقریر میں اختصارا اپنے اپنے ملک کی جنگی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرنے کی استدعا کی گئی۔ہندوستان کی باری آنے پر میں نے تین منٹ میں ہندوستان کی جنگی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۱۲۵ اکھ ہندوستانی کسی نہ کسی حیثیت میں جنگ کے مختلف محاذوں پر برطانیہ اور اتحادیوں کی آزادی اور سالمیت کی حفاظت اور دفاع کے سلسلے میں مختلف انواع کی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔اور ان کی طرف سے جان کی قربانی پیش کرنے میں بھی دریغ نہیں ہوا۔علاوہ فوجی اور جنگی امداد کے ہندوستان نے سامانِ حرب اور ذخائر خوراک مہیا کرنے میں بھی نمایاں خدمت کی ہے اور قابل قدر نمونہ قائم کیا ہے۔اس سلسلے میں بعض تفاصیل کا ذکر کرنے کے بعد میں نے کہا ” دولتِ مشترکہ کے سیاستدانوں! کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ ہندوستان کے ۲۵ لاکھ فرزندوں نے میدان جنگ میں مملکت برطانیہ کی آزادی کی حفاظت کیلئے داد شجاعت دی ہو لیکن خود ہندوستان ابھی تک اپنی آزادی کا منتظر اور اس کیلئے ملتیجی ہو ؟ شاید ایک مثال اس کیفیت