سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 265
۲۶۵ نمائندہ جماعت قرار دیتی جب کہ شومئی قسمت سے مسلمانوں کے بعض مخصوص گروہ کو ہندو کانگریس کے ہم نوا ہو کر مسلم کاز کو نقصان پہنچاتے رہے۔اس مسلسل کش مکش میں آزادی کا سرا کہیں نظر نہ آتا تھا۔حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ہر سہ فریق کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایک پر درد مخلصانہ خطاب میں فرمایا :۔"۔۔۔۔اے انگلستان! تیرا فائدہ ہندوستان سے صلح کرنے میں ہے۔۔ہندوستان کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی انگلستان کے ساتھ اپنے پرانے اختلافات کو بھلا دے۔میں اپنی طرف سے دنیا کو صلح کا پیغام دیتا ہوں۔میں انگلستان کو دعوت دیتا ہوں کہ آؤ اور ہندوستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کو دعوت دیتا ہوں کہ جاؤ اور انگلستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں اور پورے ادب و احترام کے ساتھ دعوت دیتا ہوں بلکہ لجاجت اور خوشامد سے دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کر لو۔اور میں دنیا کی ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں، کانگریس کے بھی دشمن نہیں ، ہم ہندو مہاسبھا والوں کے بھی دشمن نہیں، مسلم لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں اور زمیندارہ لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں ، خاکساروں کے بھی دشمن نہیں ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور ہم صرف ان کی ان باتوں کا بُرا مناتے ہیں جو دین میں دخل اندازی کرنے والی ہوتی ہیں ورنہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور ہم سب سے کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم خدا تعالیٰ کی اور اس کی مخلوق کی خدمت کریں۔ساری دنیا سیاسیات میں الجھی ہوئی ہے اگر ہم چند لوگ اس سے علیحدہ رہیں اور مذہب کی اشاعت کا کام کریں تو دنیا کا کیا نقصان ہو جائے گا؟ اس پُر در دو موثر بیان کے آخر میں آپ نے فرمایا :۔اس میں شبہ نہیں کہ میرا ایسی نصیحت کرنا اس زمانہ میں جب کہ ہماری جماعت ایک نہایت قلیل جماعت ہے بالکل ایک بے معنی سی چیز نظر آتی ہے میں انگلستان کو نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں خواہ میری یہ نصیحت ہوا میں اڑ جائے۔اور اب تو ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی پکڑنے کے سامان پیدا ہو چکے ہیں۔یہ ریڈیو ہوا میں سے ہی آواز کو پکڑنے کا آلہ ہے۔پس مجھے اس صورت میں اپنی آواز کے ہوا میں اڑ جانے کا بھی کیا خوف ہو سکتا ہے جبکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہوا میں اڑ جانے والی آواز کو بھی