سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 267 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 267

۲۶۷ کو واضح کرنے میں ممد ہو سکے۔چین کی آبادی اور رقبہ ہندوستان کی آبادی اور رقبے سے بیشک زیادہ ہے لیکن وسعت اور آبادی کے علاوہ باقی ہر لحاظ سے چین آج ہندوستان سے کوسوں پیچھے ہے۔تعلیم، صنعت و حرفت، وسائل آمد و رفت غرض خوشحالی کے تمام عناصر کے لحاظ سے ہندوستان چین سے کہیں آگے نظر آتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ چین تو آج دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور ہندوستان کسی گنتی میں نہیں ؟ کیا اس کی صرف یہی وجہ نہیں کہ چین آزاد ہے اور ہندوستان محکوم ؟ لیکن یہ حالت اب دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ہندوستان بیدار ہو چکا ہے اور آزاد ہو کر رہے گا۔کامن ویلتھ (Common Wealth) کے اندر رہ کر اگر آپ سب کو یہ منظور ہو اور کامن ویلتھ کو ترک کر کے اگر آپ ہندوستان کیلئے اور کوئی رستہ نہ چھوڑیں"۔(تحدیث نعمت صفحہ ۴۸۱۔ایڈیشن دسمبر ۱۹۷۱ء) اس بیان سے پریس میں خاصی ہلچل ہوئی۔برطانوی وزراء نے بھی گہری دلچسپی ظاہر کی۔پنڈت نہرو نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری صاحب نے تو ہم سے بھی کھل کر آزادی کی بات کی ہے اور چوہدری صاحب ابھی لندن میں ہی تھے کہ آپ کو بصیغہ راز پتہ چلا کہ لارڈ ویول وائسرائے ہند کو مشورہ کے لئے لندن بلایا گیا ہے۔حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں:۔میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی کہ اس نے اس عاجز کی حقیر کوشش کو نوازا اور اس کو ( تحدیث نعمت) پر اثر بنایا۔چنانچہ لارڈ ویول لندن میں تشریف لائے اور ہندوستان کی آئینی جدوجہد کا آخری مرحلہ شروع ہو گیا۔لارڈ ویول ابھی انگلستان میں وزیر اعظم چرچل اور وزیر ہند اور دوسرے وزراء سے مشورہ وغیرہ میں مصروف تھے کہ حضرت چوہدری صاحب بھی دوبارہ انگلستان تشریف لے گئے۔آپ کا یہ نجی نوعیت کا دورہ تھا تاہم آپ کی انگلستان میں موجودگی سے ہندوستان کی آزادی کے مسئلہ میں اچھی پیش رفت ہوئی۔جس کا ذکر ہندوستان ٹائمز (۱۹۴۵-۱۹۵) اور لندن ٹائمز میں بڑے اچھے رنگ میں کیا گیا۔حضرت چوہدری صاحب کی ان خدمات کو ملکی پریس نے بھی بہت اچھے الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔اخبار انقلاب " ۲۲۔فروری ۱۹۴۵ء نے " سر ظفر اللہ کی صاف گوئی" کے عنوان سے اپنے اداریہ میں اسی طرح اخبار احسان ۲۳ - فروری ۱۹۴۵ء ' اخبار " پیام" "