سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 264 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 264

قائد اعظم ۱۹۳۴ء میں واپس تشریف لے آئے اور مرکزی اسمبلی میں بلا مقابلہ منتخب ہو کر مسلم مفاد کیلئے کو شاں ہو گئے۔آپ کے بلند اخلاق ، مضبوط کردار اصول پسندی اور معاملہ فہمی کے نتیجہ میں مسلمان آپ پر اعتماد کرنے لگے اور آزادی وطن کی منزل جو بہت دور لگتی تھی نزدیک ہونے لگی۔۱۶۔جون ۱۹۴۶ء کو یہ اعلان کیا گیا کہ ملک میں ایک عارضی حکومت قائم کی جائے گی اور جو پارٹی اس میں شامل نہ ہوگی اسے چھوڑ کر دوسری پارٹی کے تعاون سے حکومت تشکیل دے دی ائے گی۔کانگریس نے یہ دعوت رد کر دی۔اصولاً اور انصافاً تو حکومت کیلئے ضروری تھا کہ مسلم لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت دیتی مگر انگریز حکومت نے اپنے اعلان و اقرار کے خلاف حکومت بنانے کی دعوت واپس لے لی۔اس پر مسلم لیگ نے بھی احتجا جا تعاون سے ہاتھ کھینچنے کا فیصلہ کر لیا۔وائسرائے نے یہ موقع غنیمت سمجھا اور کانگریس سے ساز باز کر کے پنڈت نہرو کو عبوری حکومت بنانے کی دعوت دے دی۔یہ مسلم لیگ کیلئے بہت ہی نازک وقت تھا۔تمام قربانیاں اور کوششیں رائیگاں جاتی نظر آرہی تھیں۔۲۔ستمبر کو حضور دہلی تشریف لے گئے اس دوران آپ نے مسلم لیگ کے تمام اکابرین بشمول قائد اعظم، سردار نشتر نواب بھوپال خواجہ ناظم الدین وغیرہ سے اور گاندھی جی اور پنڈت نہرو سے بھی ملاقاتیں کیں۔حضور کی توجہ دعاؤں اور کوششوں سے یہ بیل منڈھے چڑھی اور مسلم لیگ نے عبوری حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کر کے کانگریس کے اس خطرناک داؤ کو بے کار کر دیا بلکہ اس عبوری حکومت کے وزیر خزانہ لیاقت علی خان نے نہایت متوازن بجٹ پیش کر کے جسے " غریب کا بجٹ " کی شہرت حاصل ہوئی کانگریسی وزارتوں کے دانت کھٹے کر دیئے اور بڑے بڑے حساب کے ماہر ہندوؤں کو جو مسلمانوں کی حساب سے روایتی عدم دلچسپی کے مفروضے کے بھروسہ پر مسلم لیگی وزارت خزانہ کی ناکامی اور نتیجہ مسلم لیگ اور مسلمانوں کی شرمندگی کے منتظر تھے دن کو تارے نظر آنے لگے۔بر صغیر کی آزادی کی مہم ایک عرصہ سے جاری تھی تاہم انگریز یہ جانتے ہوئے حصول آزادی کہ ہندو مسلم اتحاد ممکن نہیں ہے آزادی کے سلسلہ میں ہندوستانیوں کی طرف سے متفقہ منصوبہ پیش کرنے پر مصر رہے۔کانگریس ہندوستان کی تقسیم کو گنو ماتا کی تقسیم قرار دیتی اور مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی اس کے بر عکس مسلم لیگ مسلم اکثریت کے علاقوں کی آزاد مملکت کے قیام پر اصرار کرتی اور اپنے آپ کو مسلمانوں کی واحد