سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 127 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 127

۱۲۷ وعدوں والا خدا ہے۔جو آج بھی اپنی ہستی کے زندہ نشان ظاہر کر رہا ہے۔دنیا کی اندھی آنکھیں دیکھیں یا نہ دیکھیں اور بہرے کان سنیں یا نہ سنیں لیکن یہ امرائل ہے کہ خدا کا دین پھیل کر رہے گا۔کیمونزم خواہ کتنی ہی طاقت پکڑ جائے مگر وہ میرے ہاتھ سے شکست کھا کر رہے گا اس لئے نہیں کہ میرے ہاتھ میں کوئی طاقت ہے بلکہ اس لئے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں۔” خدا نے جو وعدے کئے وہ کچھ تو پورے ہو چکے اور باقی آئندہ پورے ہوں گے۔آئندہ جو کچھ ظاہر ہو گا ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔جن کندھوں پر آئندہ سلسلہ کے کاموں کا بوجھ پڑنے والا ہے چاہئے کہ وہ ہمت کے ساتھ اس بوجھ کو اٹھائیں یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت پھر دنیا میں قائم ہو جائے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی زندگی کی آخری گھڑی تک مجھے اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور آپ لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ خدمت دین کی توفیق دے اور آپ اس وقت تک صبر نہ کریں جب تک کہ اسلام دوبارہ ساری دنیا پر غالب نہ آجائے۔" (الفضل ۲۱ اپریل ۱۹۴۹ء) ایک لمبی پُر سوز دعا کے ساتھ سرزمین ربوہ میں پہلا تاریخی جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔بے سرو سامانی کے عالم میں انتہائی مشکل حالات میں منعقد علمی ترقی کا عظیم الشان منصوبہ ہونے والے اس جلسہ میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے تھے جو قادیان سے ہجرت کے بعد احمدیوں کی شیرازہ بندی اور جماعتی اتحاد و تنظیم کو ایک قصہ پارینہ سمجھتے ہوئے جماعت کی پریشانی و ناکامی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے آئے تھے مگر جلسہ کے انتظامات اور ساری کارروائی بالعموم اور حضور کے ولولہ انگیز خطاب بالخصوص ایسے لوگوں کیلئے مایوسی اور حسرت کا باعث ہی بنے۔اسی جلسہ میں جماعت کی عورتوں سے خطاب فرماتے ہوئے یا یوں کہہ لیجئے کہ جماعت کی آئندہ نسل کو ایمان وایقان میں پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنے مخصوص سحرانگیز انداز میں فرمایا۔" وہی عورت عزت کی مستحق ہے جو بچہ نہیں جنتی شیر جنتی ہے۔جو انسان نہیں جنتی فرشتہ جنتی ہے۔یہی وہ کام ہے جو صحابیات نے کیا اور یہی تمہارے لئے حقیقی نمونہ اور حقیقی رہنما ہے۔" (رساله مصباح مئی ۱۹۵۰ء)