سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 128 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 128

۱۲۸ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضور نے اپنے اسی خطاب میں پاکستان کی حفاظت و استحکام کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اس غرض سے فنون جنگ سیکھنے اور ملک و قوم کے لئے مرنے مارنے کا جذبہ پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔نئے مرکز کا قیام حضور کے اہم کارناموں میں سے ایک نمایاں کارنامہ ہے۔اس نئے مرکز میں انتہائی مشکل حالات اور بے سرو سامانی کی کیفیت میں پہلا سالانہ جلسہ منعقد ہوتا ہے تو حضور خدا تعالی کے شکر کے ترانے گانے پر ہی اکتفا نہیں فرماتے بلکہ بغیر کوئی وقت ضائع کرنے کے مستورات سے خطاب کرتے ہوئے احمدیت کی بنیادوں کی مضبوطی کیلئے علمی ترقی کا ایک ظیم الشان منصوبہ پیش فرماتے ہیں۔عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ منصوبہ پیش فرمانے میں یقینا یہ حکمت بھی کار فرما ہوگی کہ احمدی مائیں علمی ترقی کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے خود بھی علمی کاموں میں آگے آئیں اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی علمی ذوق سے آشکار کھیں تاکہ احمدیت کا کل ہمیشہ احمدیت کے آج سے بہتر ہو۔حضور نے فرمایا۔” میرے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ ہم دماغی ترقی کی طرف خاص طور پر توجہ دیں۔اس وقت تک جو کتابیں ہماری جماعت کی طرف سے شائع ہوئی ہیں وہ کسی تنظیم کے بغیر شائع ہوئی ہیں۔سوائے تفسیر کبیر کے۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ جماعت کا ہر فرد وقتی ضرورتوں کے ماتحت ایک خاص پروگرام کے ماتحت چلے اور اس طرح ترقی کرنے کی کوشش کرے۔اس لئے میں نے سمجھا کہ میں نیا مرکز بن جانے کے بعد ایک خاص نظام قائم کروں تا جماعت کے افراد کی خاص طور پر تربیت ہو اور اخلاق ، عقائد مذہب اور دیگر دنیوی علوم پر ہر آدمی آسانی کے ساتھ عبور حاصل کر سکے اور اس کا یہی طریق ہے کہ آسان اردو میں ایسی کتابیں شائع کی جائیں جو ہر مضمون کے متعلق ہوں اور علمی مطالب پر حاوی ہوں اور ایسی سیدھی سادی زبان میں ہوں کہ معمولی زمیندار بھی انہیں سمجھ سکیں وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جس کے صرف چند افراد عالم ہوں۔ہم نے اگر ترقی کرنی ہے تو ہمیں اپنی جماعت کے علم کے درجہ کو بلند کرنا ہو گا۔اس کا طریق یہی ہے کہ کتب کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے جس میں دنیا کے تمام موٹے موٹے علوم آجائیں اور وہ بچوں، درمیانی عمر والوں اور پختہ کار لوگوں غرض سب کے لئے کافی ہوں۔اس کے تین سلسلے ہوں گے۔پہلا سلسلہ مڈل سے نیچے پڑھنے