سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 126
ہے ثواب بنادیتی ہیں۔مثلا خانہ کعبہ کتنی مقدس اور بابرکت جگہ ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے وہاں سے ہجرت کی۔اگر مقدس مقامات کو چھوڑنا ہر حالت میں گناہ ہو تا تو آپ کبھی بھی سکے کے مقام کو نہ چھوڑتے۔در حقیقت آپ کی ہجرت بھی آپ کی صداقت کا ایک نشان تھا کیونکہ سینکڑوں برس قبل اللہ تعالٰی نے مختلف انبیاء کے ذریعہ رسول کریم ملی علی علیہ کی ہجرت کی خبر دے رکھی تھی۔پس مقدس مقامات سے نکلنا کوئی نئی بات نہیں۔اگر رسول کریم ملی یا اللہ اور آپ کے صحابہ کے مکہ سے نکل جانے پر اسلام پر کوئی اعتراض نہیں آتا تو قادیان سے نکلنے پر کس طرح اعتراض کیا جا سکتا ہے خاص کر جب کہ ہمارا ایک حصہ ابھی تک قادیان میں بیٹھا ہوا ہے۔ہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ گذشتہ انبیاء نے جس قدر ہجرتیں کیں ان کی خبر تو ضرور پہلے سے موجود ہوتی تھی۔کیا قادیان سے ہجرت کی پیشگوئی کی خبر بھی پہلے سے موجود تھی۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں قادیان سے ہجرت کی پیشگوئی بھی پوری تفصیل کے ساتھ پہلے سے موجود ہے۔" اس پر معارف اور پُر شوکت خطاب کے آخر میں حضور نے کمیونزم کی اپنے ہاتھ پر تباہی کی خبر دیتے ہوئے فرمایا :۔"دیکھو جو کچھ خدا نے فرمایا تھا وہ پورا کر دیا یہ خدا کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے وعدے کے مطابق اس عظیم الشان ابتلاء میں مجھے جماعت کی حفاظت کرنے اور اسے پھر اکٹھا کرنے کی توفیق دی۔تمہیں چاہئے کہ اپنے رب کا شکر ادا کرو اور سچے مسلمان بنو۔اور اپنے خدا کے فضل کی تلاش میں لگے رہو۔یاد رکھو تم وہ قوم ہو جو آج اسلام کی ترقی کے لئے بمنزلہ بیج کے ہو تم وہ درخت ہو جس کے نیچے دنیا نے پناہ لینی ہے تم وہ آواز ہو جس پر محمد رسول اللہ میں اہم فخر کریں گے اور اپنے خدا کے حضور کہیں گے کہ اے میرے رب! جب میری قوم نے قرآن پھینک دیا تھا اور تیرے نشانات کی قدر کرنے سے منہ موڑ لیا تھا تو یہی وہ چھوٹی سے جماعت تھی جس نے اسلام کے جھنڈے کو تھامے رکھا۔اسے مارا گیا اسے بد نام کیا گیا، اسے گھروں سے بے گھر کیا گیا اور اسے مصیبت کی چکیوں میں پیسا گیا مگر اس نے تیرے نام کو اونچا کرنے میں کو تاہی نہیں کی۔میں آسمان کو اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ خدا نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا۔وہ بچے