سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 125 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 125

۱۲۵ مسئلہ سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔اتنے وسیع پیمانہ پر کھانے کا انتظام بھی بہت مشکل تھا مگر اس مشکل میں کارکنوں کی کمی اور پانی کی کمیابی اور اضافہ کر رہی تھی۔حضرت مصلح موعود کسی مشکل سے ہمت ہارنے والے نہ تھے بلکہ ہر مشکل کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول فرماتے اور پھر پُر سوز دعاؤں اور محنت و کوشش کو آخر تک پہنچا دیتے۔اس جلسہ سالانہ کا انعقاد بھی ایسا ہی ایک عظیم انسانی کارنامہ تھا جو عام محاورہ کے مطابق جنگی بنیادوں پر سرانجام دیا گیا۔مہمانوں کی رہائش کے لئے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دونوں طرف کچی اینٹوں اور سرکنڈے کی چھتوں والی پچاس بیر کیں تعمیر کی گئیں۔مستورات کی بیرکوں کے ارد گرد پہرے اور حفاظت کی خاطر اونچی دیوار بنادی گئی۔کھانے کی تیاری کے لئے چالیس تنور دن رات کام کرتے رہے اور ایک وقت میں ساتھ ساتھ دیگیں سالن تیار ہوا۔حضرت فضل عمر نے اجناس لانے کی بھی تحریک فرمائی تھی اس وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اجناس کی کمی بھی نہ ہوئی حضرت مصلح موعود اس جلسہ کے انتظامی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔افسوس ہے کہ کھانا بنے کا انتظام بعض وجوہ کی بناء پر صحیح نہیں ہو سکا۔ہمارا اندازہ دس ہزار مہمانوں کا تھا لیکن حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۶ ہزار سے بھی زیادہ ہوئی ہے۔ہم نے صرف پانی کے انتظام پر دس ہزار روپیہ خرچ کیا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اگر گورنمنٹ کے محکمہ حفظان صحت کی مہربانی سے ہمیں ٹینک نہ مل جاتے تو پانی کی بہت ہی تکلیف ہوئی تھی۔صفائی کے محکمہ نے بھی ہماری مدد کی ہے۔اسی طرح ریلوے کے محکمہ نے بھی ہمارے ساتھ تعاون کا بہت اچھا ثبوت دیا ہے۔در حقیقت ان تینوں محکموں کی امداد کے بغیر ہمارا یہ جلسہ کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے ہم ان محکموں کا اور چونکہ یہ محکمے گورنمنٹ پاکستان کے ہیں اس لئے ہم حکومت پاکستان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔پبلک ڈیوٹی کی ادائیگی کی وجہ سے یہ محکمے یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب کے مستحق ہوں گے۔" (الفضل ۲۱ اپریل ۱۹۴۹ء) حضور نے جلسہ کے خطاب میں قادیان سے ہجرت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیش خبریوں اور اپنی خوابوں کا ذکر فرمایا اس تسلسل میں آپ نے فرمایا :۔”مقدس مقامات کو چھوڑنا قدر تا طبع پر گراں گذرتا ہے بلکہ اسے گناہ تصور کیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں بعض دفعہ اس کام کو جو عام حالات میں گناہ سمجھا جاتا