سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 393 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 393

۳۹۳ میں ایکسرے سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے سر کی ہڈیاں تین جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں اور حالت خطر ناک ہے۔اسی طرح اور بھی بہت سے احمدی زخمی ہوئے۔پہلے تو خیال تھا کہ زخمیوں کی تعداد ۲۴ ۲۵ ہے۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ چالیس کے قریب ہے۔ان میں سے بعض کی ضربات شدید ہیں۔جیسے میاں عبدالرحیم احمد صاحب اور میاں فضل کریم صاحب پراچہ کی۔ان کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی واقف تحریک جدید کے بھی سخت چوٹ آتی ہے اور شبہ ہے کہ ان کی آنکھ کے پاس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔اب تک وہ سر نہیں اُٹھا سکتے۔مگر میں اس تمام عرصہ میں متواتر اپنے تمام آدمیوں کو یہ نصیحت کر رہا تھا کہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں۔ماریں کھائیں مگر جواب نہ دیں۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دشمن کی جو غرض تھی کہ جلسہ نہ ہو اور میں تقریر نہ کر سکوں۔وہ پوری نہ ہوسکی۔اور ہم نے دعا اور تقریر کے بعد جلسہ ختم کیا۔جب خطرہ بڑھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ عورتوں کو وہاں سے پرہ کے اندر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جائے۔پہلے غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو پہنچائیں پھر احمدی خواتین کو۔اس کے لیے لاریاں منگوائی گئیں اور جس جس جگہ کو عورتوں نے اپنے لیے محفوظ سمجھا وہاں ان کو پہنچا دیا گیا۔مثلا سکھ عورتوں نے کہا ہمیں گوردوارہ میں پہنچا دیا جاتے۔چنانچہ ان کو گوردوارہ میں پہنچا دیا گیا۔اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک ہمیں جلسہ گاہ میں انتظار کرنا پڑا۔مگر ان لوگوں کی شرافت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے اُن لاریوں پر بھی حملہ کیا جو عور توں کوئے جارہی تھیں۔چنانچہ ایک لاری جس میں عورتیں تھیں انہوں نے اس کے آگے لاٹھیاں وغیرہ رکھکر روک لی۔مگر میں چونکہ جانتا تھا کہ یہ لوگ ایسے اخلاق کے مالک ہیں۔اس لیے میں نے ہر لاری کے ساتھ محافظ بھیجوانے کا حکم دیا تھا۔جب لاری رُک گئی تو انہوں نے بے تحاشا پتھر برسانے شروع کر دیتے۔ان حملوں میں بھی ہمارے بعض نوجوان زخمی ہوئے اور بعض تو جب واپس آتے تو سر سے پاؤں تک خون میں نہائے ہوتے تھے۔مگر اس موقعہ پر بھی اللہ تعالیٰ نے دشمن کو یہ بتا دیا کہ گو احمدی صبر کرتے ہیں مگر جب اُن پر خواہ مخواہ حملہ کیا جاتے خصوصاً جب عورتوں کی حفاظت کا سوال ہو تو وہ ڈرتے نہیں۔اسی سلسلہ میں ایک ہندو ر میں نے ڈاکٹر لطیف صاحب کو سنا یا کہ میں سٹرک پر جا رہا تھا کہ سامنے