سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 392
۳۹۲ دیکھا تو سینکڑوں لوگوں کا ایک گروہ عورتوں کی جلسہ گاہ کی طرف حملہ کرنے کے لیے بھاگا جا رہا تھا۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے کوئی شریف قوم برداشت نہیں کر سکتی۔پولیس بھی ان کو روکنے کے لیے دوڑی وہ لوگ پولیس کے پہلو بہ پہلو دوڑ رہے تھے مگر پہلے وہاں پہنچ گئے۔زنانہ جلسہ گاہ کے اردگرد قناتیں تھیں۔ایک قنات کے اندر صحن تھا اور پھر آگے جا کر دوسری قنات تھی اور اس کے اندر عورتیں بیٹھی تھیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو جلسہ کا ایسا خطرناک انجام ہوتا کہ ممکن ہے بہت زیادہ خون خرابہ ہو جاتا۔ان لوگوں نے پہلی قنانوں کو پھاڑ دیا اور گرا دیا۔اتنے میں پولیس بھی پہنچ گئی۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ باہر کے پردہ کے اندر جب انہوں نے دیکھا کہ عورتیں نہیں ہیں تو غالباً یہ سمجھا کہ عورتیں یہاں سے چلی گئی ہیں۔اور اگلی قناتوں تک وہ نہ گئے۔اور اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس بڑے خطرہ سے ہمیں بچا لیا۔ورنہ اگر عورتوں کی بے حرمتی تک نوبت پہنچتی تو پھر کوئی شریف آدمی صبر سے کام نہ لے سکتا تھا۔اگر خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو دہلی وہ نظارہ دیکھیتی جو اس نے گذشتہ انٹی سال میں نہیں دیکھا۔جب انہوں نے عورتوں پر حملہ کا ارادہ کیا تو میں نے حکم دیا کہ ایک سو مضبوط نوجوان جاکر عورتوں کی جلسہ گاہ کے باہر کھڑے ہو کر پہرہ دیں۔عورتوں کا احترام نہایت ضروری اور لابدی ہے۔اس لیے وہی کھڑا ہو جو مرنا جانتا ہے بلکہ میں نے یہاں تک کہا کہ اگر تم میں سے کوئی مرنا نہیں جانتا تو وہ ہرگز نہ جائے۔وہ واپس آجاتے اس کی جگہ میں خود جانے کو تیار ہوں کیونکہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مرنا جانتا ہوں۔اس وقت جو غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین وہاں تھیں۔ان کے رشتہ داروں نے کہلا بھیجا کہ ہمیں اپنی مستورات کی نسبت بہت گھبراہٹ ہے۔خطرہ بہت ہے کوئی انتظام کیا جائے۔اس پر میں نے ان کی تسلی کے لیے اعلان کیا کہ آپ فکر نہ کریں۔اپنی عورتوں سے پہلے ہم آپ کی عورتوں کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ وہ اس امر کے شاہد ہیں کہ ہم نے وہ وعدہ پورا کر دیا۔بعض غیر احمدی مستورات کے ساتھ میری بیٹیاں گئیں اور ان کو گھر پہنچا کہ پھر اپنے گھر آئیں۔جب وہ ہجوم وہاں سے ہٹا تو پھر مختلف جہات سے سنگباری شروع ہوگئی اور وہ لوگ آگے بڑھنے لگے۔حتی کہ ایک دفعہ اتنے قریب آگئے کہ سٹیج کے پاس پتھر پڑنے لگے یہ وہی موقع تھا جب میرے داماد میاں عبدالرحیم احمد صاحب کے سر پر چوٹ آئی۔بعد