سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 394
۳۹۴ سے ایک لاری آتی دیکھی جس میں عورتیں تھیں کئی سو آدمیوں کا ایک ہجوم آگے بڑھا اور لاری کو روک لیا۔لاری کے ساتھ چند ایک نوجوان تھے۔جب ہجوم نے لاری کو روکا تو میں نے خیال کیا کہ اب ان جوانوں کی خیر نہیں۔ہجوم نے پتھر برسانے شروع کئے مگر میرے دیکھتے دیکھتے پانچ سات نوجوان آگے آئے اور انہوں نے سینکڑوں لوگوں کا مقابلہ کیا۔میں یہ دیکھ کر حیران تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان مارے جائیں گے مگر ابھی دو تین منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ میں نے دیکھا وہ ہجوم بھیڑوں بکریوں کی طرح بے تحاشا بھاگا جارہا تھا اور لاری اور اس کے محافظ سائیکلسٹ آرام سے اپنی منزل مقصود کی طرف جارہے تھے۔بات یہ ہے کہ ہم امن کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور گورنمنٹ کا کام اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے۔ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتیں جہاں صبر کرنا جانتی ہیں وہاں مرنا بھی جانتی ہیں۔اور جو قوم مرنے کے لیے تیا بہ ہو اسے کوئی نہیں مار سکتا۔میں خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہ سکتا ہوں کہ یہ سات آٹھ ہزار آدمی نہیں اگر دہلی کے تمام لوگ بھی ہم پر حملہ کرتے تو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم ان کو بھگا دیتے۔مگر ہم نے پولیس کے کام میں دخل دینا پسند نہ کیا۔جب عورتوں کی لاریوں پر انہوں نے حملہ کیا تو وہاں احمدیوں نے مقابلہ کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند آدمی سینکڑوں کو بھگا کرے گئے۔غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو خطرہ کا بہت احساس تھا۔بعض تو گھبراہٹ میں کا نینے لگیں۔مگر اس وقت احمدی عورتوں نے بھی بہادری دکھائی اور ان کے ارد گرد قطار باندھ کر کھڑی ہو گئیں اور کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔اگر کوئی اندر آیا بھی تو ہم مقابلہ کرینگی۔حکومت ہند کے سیکرٹری صاحب کی اہلیہ صاحبہ بھی جلسہ میں تھیں۔اُن کو جب موٹر میں بٹھایا گیا تو اُن کے ایک طرف میری لڑکی بیٹھ گئی اور دوسری طرف ایک اور غیر احمدی خاتون جو بہا در دل کی تھیں تا اگر باہر سے پتھر وغیرہ آئیں تو ان کو نہ لگیں اور اس طرح موٹر میں بٹھا کر ان کو گھر پہنچایا گیا۔تواللہ تعالیٰ کے فضل سے اس موقعہ پر عورتوں نے بھی ثابت کر دیا کہ اگر موقعہ آتے تو وہ جان دینے سے دریغ نہیں کرتیں۔بہر حال رات تک یہ شور و شہر ہوتا رہا۔آخر جب عورتیں چلی گئیں۔تب میں نے افسروں سے کہلا بھیجا کہ اب ہم نے جانا ہے کیا آپ لوگ ہمارے لیے رستہ بنادینگے یہام خود بائیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم خود آپ لوگوں کو بحفاظت پہنچائیں گے۔چنانچہ پولیس گاردہمارے آدمیوں کے آگے پیچھے ہو کر انہیں محفوظ