سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 354
۳۵۴ اسی طرح دبیات سُدھارا اور خواندگی کا معیار بڑھانے کی کوشش کرنا بھی اُن کے دائرہ عمل میں ہے اور ان سب کے علاوہ اکثر معلمین اپنے اپنے گاؤں کے حکیم - وید۔کمپونڈر یا ہومیو پیتھک ڈاکٹرز بھی ہیں اور اس پہلو سے بھی انہیں ایسے علاقوں میں جہاں طبی سہولتیں مہیا نہیں خدمت خلق کا بہت موقع ملتا ہے۔آئندہ کے لیے ان میں سے مستحق اور قابل معلمین کی رجسٹریشن کا انتظام بھی کروایا جارہا ہے۔مدارس : تمام معلمین اپنے اپنے مراکز میں دینی تعلیم و تربیت کی کلاس تو لگاتے ہی ہیں لیکن ان کلاسوں کے علاوہ بعض جگہوں پر باقاعدہ مدارس کھولے گئے ہیں جن میں نصاب کے مطابق بعض جگہ پرائمری اور بعض جگہ مڈل تک تعلیم دی جاتی ہے۔اس وقت ان مدارس کی تعداد چار ہے لیکن عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ایک ہندو علاقہ میں ایک اور مدرسہ کھولا جائے گا۔ان مدارس کا معیار خدا کے فضل سے بہت اچھا ہے چنانچہ ایک مدرسہ کے معائنہ کے بعد انسپکٹر صاحب تعلیم اس قدر خوش ہوئے کہ ہمارے معلم کو ساتھ دوسرے پر چلنے کے لیے کہا تاکہ دوسرے اساتذہ کو کام کا طریق سکھا سکیں۔بفضلہ تعالیٰ مقصد میں کامیابی :- اس امر کا اندازہ کہ وقعت جدید کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور دیہاتی جماعتوں پر اس کے کیا خوشکن اثرات ظاہر ہو رہے ہیں مندرجہ ذیل امور سے لگایا جا سکتا ہے۔1- چندوں میں غیر معمولی اضافہ معلمین کے ذریعہ دو طرح پر جماعتی چندوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اول اُن کی تربیت کے نتیجہ میں جماعت میں قربانی کی روح ترقی کرتی ہے اور جماعتی چندوں پر بھی اس کا نہایت خوشگوار اثر پڑتا ہے۔اس مثلاً ایک جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب تحریر فرماتے ہیں :- "جماعت کے چندہ میں معلم کے آنے سے قبل بقایا در بقایا تھا۔اُن کے آنے سے اب بز ۷۵ چندہ ادا ہو چکا ہے جبکہ ابھی سال کے چار پانچ ماہ باقی ہیں۔ایک اور پریذیڈنٹ معلم کی تقرری سے قبل اور بعد کا موازنہ کرتے ہوتے تحریر فرماتے ہیں :۔چندہ عام دو صد روپے صرف تھا۔اب شاہ کا بجٹ جس میں حصہ آمد بھی شامل ہے دو ہزار روپے ہے۔دوم : چونکہ معلمین کو تاکید کی جاتی ہے کہ کو مبایعین کو فوری طور پر جماعتی چندوں میں شامل کریں ورنہ اُن کے ذریعے ہونے والی بیعتیں حقیقی بیعتیں شمار نہیں ہوں گی۔اس لیے جوں جوں تو میامین نو