سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 355 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 355

۳۵۵ کی تعداد بڑھتی جاتی ہے چندوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اس ضمن میں ایک سیکرٹری مال نے جو اعداد و شمار بھجواتے ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت کا چندہ عام کا کل سالانہ بجٹ ۴۹۰۷ روپے ۴۰ پیسے ہے جس میں ۱۲۱۵ روپے بجٹ اُن کو مبایعین کا ہے جو وقف جدید کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوتے۔نہیں نہیں بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ اس بجٹ میں ۵۰ - ۲۵ ۷ روپے کی وہ رقم بھی شامل ہونی چاہیئے جو بعض نو مبایعین کی نقل مکانی کی وجہ سے دوسری جماعتوں میں منتقل کی گئی۔گویا چار ہزار نو سو سات روپے میں سے ایک ہزار نو سو چالیس روپے صرف نو مبایعین کا بجٹ ہے۔فالحمد الله على ذلك - ب - نماز با جماعت کا قیام اس اہم دینی فریضہ کی سرانجام دہی میں معلمین کو خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ حیرت انگیز کامیابی ہو رہی ہے۔مختلف صدر صاحبان اور امراء کی طرف سے اس بارہ میں بیٹیوں خوشنودی کے اظہار موصول ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک بڑی جماعت کے صدر صاحب لکھتے ہیں:۔" نماز با جماعت کے قیام میں معلم نے مختلف کوششوں کے طریق جاری رکھے۔مثلاً صبح نماز کے وقت گاؤں میں بلند آواز سے درود شریف پڑھنا۔معلم صاحب کے آنے سے پہلے تقریباً ساری جماعت ہی بے جماعت سمجھ لیں کیونکہ خاکسار اگر گھر پر ہوتا تو نماز ہو جاتی۔اگر خاکسار گھر پر نہ ہوتا تو نماز با جماعت نہ ہوتی ، لیکن محترم معلم صاحب کے آنے سے یہ بیماری دور ہو گئی اور باقاعدہ نماز با جماعت ہونے لگی اور پھر نماز با جماعت ہی نہیں بلکہ نماز تتجد باجماعت کا سلسلہ بھی جاری رہنے لگا اور اس دوران میں ایک ماہ سے اوپر مستقل نمازہ تجد جاری ہے۔ایک جماعت کے صدر صاحب تحریر فرماتے ہیں :- " پہلے سے دُگنے نمازی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔جنگ کے دنوں میں صبح صل علیٰ پڑھنے کا پروگرام کر کے مسجد میں بہت رونق پیدا کر دی جاتی رہی ہے اور ڈیڑھ ماہ تک عورتیں دو نمازیں مسجد میں باجماعت ہمارے ساتھ پردہ کے انتظام سے ادا کرتی رہی ہیں" ایک اور جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب مندرجہ ذیل الفاظ میں جماعت کی پہلی حالت اور بعد میں پیدا ہونے والی خوشگوار تبدیلی کا ذکر فرماتے ہیں :-