سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 353 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 353

۳۵۳ حالات کے پیش نظر شہری دفاع کی تربیت بھی نصاب میں شامل کر دی گئی ہے۔سال ۹۶۵ہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۸ معلمین نے کامیابی کی سند حاصل کی۔اور اب جماعتوں میں نہایت عمدگی سے خدمت دین بحالا رہے ہیں ہیں۔ایک معلم کیا کرتا ہے :-۔ایک معلم کا سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ جس جماعت میں مقرر ہو وہاں جاتے ہی حالات کا جائزہ یہ لیکر معین اعداد و شمار کے ساتھ ابتدائی رپورٹ دفتر کو ارسال کرے کہ کتنے مرد، عور ہی بچوں میں سے کتنے نماز باترجمہ جانتے ہیں۔قرآن کریم ناظرہ یا با ترجمہ جانتے ہیں نماز با جماعت کے عادی ہیں۔تلاوت کے عادی ہیں مسائل وفات مسیح، ختم نبوت ، صداقت مسیح موعود وغیرہ سے کما حقہ واقفیت رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ ایس کے بعد وہ ان تمام امور میں جماعت کی حالت کو بہتر بنانے میں دن رات مصروف ہو جاتا ہے اور اپنی ہر آئندہ رپورٹ میں اعداد و شمار کے ساتھ ظاہر کرتا ہے کہ فلاں فلاں تربیتی پہلو کے لحاظ سے جماعت کے اتنے اتنے مرد، عورتوں یا بچوں نے اتنی اتنی ترقی کرتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس اہم تربیتی کام کے علاوہ معلم کو اصلاح وارشاد کے کام پر بھی خاصہ تقویت صرف کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے مرکز کے پانچ پانچ میں کے دائرہ میں اس طریق پر احمدیت کا پیغام پہنچاتے اور بالخصوص عیسائیوں اور اچھوت اقوام کو اسلام کی نعمت سے سرفراند کرنے کی کوشش کرے۔یہ کام صرف محنت طلب ہی نہیں بلکہ حکمت اور موعظہ حسنہ کو چاہتا ہے اور بسا اوقات اس راہ میں معلمین کے صبر آزماتے جاتے ہیں۔چنانچہ ایسا بھی ہوا کہ محض اس جرم کی بنا پر کہ ایک معلم نے محض بنی نوع انسان کی ہمدردی میں لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا۔اس پر اس حد تک جسمانی سختی کی گئی کہ مارنے والے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے پھر زندگی عطا کی۔ان سختیوں کے باوجود معلم اس اہم فریضہ سے بھی غافل نہیں اور حسب توفیق ایزدی حقیقی اسلام کی منادی کر رہے ہیں۔متفرق فرائض ان معلمین کے فرائض میں بعض متفرق امور مثلاً جماعتی چندوں میں اضافہ کروانا مجلس انصارالله ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ امام اللہ میں دلچسپی کو بڑھانا بھی شامل ہیں۔