سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 310
سماٹرا - جاوا - روس امریکہ غرضیکہ دنیا کے کسی ملک میں ہو سکتا ہے۔اس لیے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔کچلنا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔نہیں کیا معلوم ہے کہ کونسی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت کو قبول کر لیں گے۔۔پس میں اس تحریک کے ماتحت ایک طرف تو ایسے نوجوانوں کا مطالبہ کرتا ہوں جو کچھ خرچ کا بوجھ خود اٹھائیں ورنہ وقف کرنے والوں میں سے اُن کو چُن لیا جائے گا جو کرایہ اور چھ ماہ کا خرچ لیکر ان ملکوں میں تبلیغ کے لیے جانے پر آمادہ ہونگے جو ان کے لیے تجویز کئے جائیں گے۔اس چھ ماہ کے عرصہ میں ان کا فرض ہو گا کہ علاوہ تبلیغ کے وہاں کی زبان بھی سیکھ لیں۔اور اپنے لیے کوئی کام بھی نکالیں۔جس سے آئندہ گزارہ کر سکیں اس تحریک کے لیے خرچ کا اندازہ میں نے دس ہزار روپیہ کا لگایا ہے۔یہیں دوسرا مطالبہ اس تحریک کے ماتحت میرا یہ ہے کہ جماعت کے ذی ثروت لوگ جو سو رو پسی یا زیادہ رو پید دے سکیں اس کے لیے رقوم دیگر ثواب حاصل کریں۔۔۔۔۔۔ایسے نوجوان با قاعدہ مبلغ نہیں ہوں گے مگر اس بات کے پابند ہوں گے کہ باقاعدہ رپورٹیں بھیجتے رہیں اور ہماری ہدایات کے ماتحت تبلیغ کریں الفضل ۲۹ نومبر ) پانچواں مطالبہ : - " تبلیغ کی ایک سکیم میرے ذہن میں ہے جس پر سو روپیہ ماہوار خرچ ہو گا۔اور اس طرح ۱۲۰۰ روپیہ اس کے لیے درکار ہے۔جو دوست اس میں بھی حصہ لے سکتے ہوں وہ لیں۔اس میں بھی غربابہ کو شامل کرنے کے لیے میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لینے کے پانچ پانچ روپے دے سکتے ہیں لا الفضل ۲۹ نومبر ) چھٹا مطالبہ :- چھٹا مطالبہ آپ نے یہ فرمایا کہ :۔میں چاہتا ہوں کہ وقف کنندگان میں سے پانچ افراد کو مقرر کیا جائے کہ سائیکلوں پر سارے پنجاب کا دورہ کریں اور اشاعت سلسلہ کے امکانات کے متعلق مفصل رپورٹیں مرکز کو بھجوائیں۔مثلاً یہ کہ کس علاقہ کے لوگوں پر کس طرح اثر ڈالا جا سکتا ہے۔کون سمون