سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 309 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 309

ان میں جاتے ہیں تو ان کا مذاق بھی بگڑ جاتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا بھی جن کو وہ سینما دیکھنے کے لیے ساتھ لے جاتے ہیں اور سینما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرا منع کرنا تو الگ رہا۔اگر میں ممانعت کروں تو بھی مومن کی روح کو خود بخود اس سے بغاوت کرنی چاہیئے ؟ ) الفضل ۱۲ دسمبر ة ) دوسرا مطالبہ :- دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے میں یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کالا سے یہ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لیے تین سال تک بیت المال میں جمع کراتے۔تیسرا مطالبه : تیسرا مطالب میں یہ کرتا ہوں کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندہ لٹریچر ہمارے خلاف شائع کر رہا ہے اس کا جواب دیا جائے یا اپنا نقطہ نگاہ احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں پیدا کی جا رہی ہیں انہیں دُور کیا جائے۔اس کے لیے بھی خاص نظام کی ضرورت ہے۔رو پیر کی ضرورت ہے۔آدمیوں کی ضرورت ہے اور کام کرنے کے طریقوں کی الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۳) ضرورت ہے"۔چوتھا مطالبہ :- چوتھے مطالبے کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا :- قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے تو کیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں نہیں پھیل جاتے۔اگر باہر نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دیگا۔اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں بھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی۔نہیں کیا معلوم ہے کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتدا۔کہاں سے ہوتی ہے قادیان بے شک ہمارا مذہبی مرکز ہے۔مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت و طاقت کا مرکز کہاں ہے۔یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہو سکتا ہے اور چین، جاپان ، فلپائن