سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 276 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 276

144 کا جذبہ ہے اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر جو کچھ مجھ کو احرار کے سرکردہ لیڈروں کی معیت۔احرار کے دفتر مرکزی میں ایک لیے عرصہ کی رہائش اور زعمائے احرار کی پرائیویٹ مجالس کی کارروائی سننے کے بعد حاصل ہوا تھا۔خدائے وحدہ لاشریک کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے قطعی اور یقینی طور پر کہتا ہوں کہ مجلس احرار کی مرزائیت یا قادیانیت کے خلاف تمام تر ---- جد و جہد اور قادیان کے خلاف یہ سب پروپیگنڈا محض مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے اور کونسل کی مہبری کے لیے ان سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے زمیندار ۲۸ اگست ۱۹۳۶ ہے؟ عدالت کی رائے بحواله الفضل ۳۰ اگست تا ) مجلس احرار کے اکابرین کے ان بیانات کے ساتھ فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کے فاضل جوں کی رپورٹ جیسی سنجیدہ اور وقیح دستاویز میں بھی اس امر کی صراحت ملتی ہے کہ یہ لوگ اسلام کے نام سے دھوکہ دیگر لوگوں کے جذبات سے کھیلا کرتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ :- " احراریوں کی پالیسی کا غالب اور بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ کسی کے ماتحت ہو کر کام نہیں کریں گے اسی اصول کے مطابق وہ کانگریس سے علیحدہ ہوتے گو اس کے بعد بھی انہوں نے کانگریس سے ملنے جلنے اور اس کے آگے دُم ہلانے کا رویہ جاری رکھا۔ان کے اور سلم لیگ کے درمیان کامل مغائرت تھی اور مسلم لیگ کے پاکستان کو انہوں نے کبھی قبول نہیں کیا تھا۔---- اسلام ان کے لیے ایک حربے کی حیثیت رکھتا تھا جسے وہ کسی سیاسی مخالف کو پریشان کرنے کے لیے جب چاہتے بالائے طاق رکھ دیتے اور جب چاہتے اُٹھا لیتے۔۔۔۔۔ان کے نزدیک قائد اعظم کا فراعظم تھے۔۔۔۔۔انہوں نے اسلام کو حربہ بناکر مسلم لیگ کو شکست دینے کی جو کوشش کی وہ احراری لیڈر مولانا مظر علی اظر کے بعض اقوال سے واضح ہوتی ہے اپنی مولانا سے وہ شعر منسوب کیا جاتا ہے جس میں قائد اعظم کو کا فراعظم کہا گیا تھا۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ص۲۷۲ ) احرار کی شاطرانہ چالوں کو دیکھ کر ہماری مایہ ناز عدلیہ کے ججوں نے کیا خوب نتیجہ نکالا ہے کہ " احرار کے رویے کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں ان کا طر یل