سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 275 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 275

۲۷۵ ہوتا تھا کہ مرزائی پاکستان کے حکمران بن جائیں گے اور گویا ان کی ساری پریشانی اور تگ و دو پاکستان کی حکمرانی کے حصول اور سیاسی کامیابی کے لیے ہے۔اسلام یا دین کی خدمت کا کوئی سوال نہیں ہے۔اس امر کی تائید ان کے ایک اور گھر کے بھیدی جو ابتداء میں مجلس احرار کے بہت ہی پرجوش د سرگرم رہنما اور قائد تھے یعنی مولانا ظفر علی خان مدیر زمیندار کے اس حقیقت افروز بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ مسلمانوں کو آستانہ کفر و شرک پر مجھکانا ہی مجلس احرار کا مقصد وحید قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :- " مجلس احرار اسلام جو اپنے آپ کو سر فروش مسلم جماعتوں کی صف اول میں شامل کرنے کی دعویدار بنتی ہے اور اپنی سرفروشیوں اور جان بازیوں کے ڈھنڈورسے دنیا بھر میں پیٹتی پھرتی ہے آج عبرتناک موت کی نیند کیوں سوگئی۔آج اس کی آواز نہ مرکزی اسمبلی میں سنی جاتی ہے نہ صوبجاتی اسمبلیوں میں۔پھر کہاں گئی مجلس احرار ---- مجلس احرار اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کو ہی اسلام اور ا کا بر اسلام اور خُدا رسول کے واسطے دیگر قربانیوں کے لیے بلایا۔مسلمان ان مقدس ناموں کو سنتے ہی مست ہو کر جھومنے لگتا اور ان مقدس ناموں کی عزت و ناموس پر جان و مال و آبرو کی قربانیاں دینے کے لیے والہانہ دوڑتا اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں دیتا۔ذرا مجلس احرار کا محاسبہ کیجئے کہ ان قربانیوں سے مجلس کا مقصد کیا تھا اور کیا حاصل ہوا۔اگر حاصل نہیں ہوا تو مسلمانوں کی قربانیاں اور خون رائیگاں نہیں گئے۔دنیا پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مجلس کے سامنے صرف ایک مقصد تھا کہ مسلمانوں کو صرف کانگریس کے آستانہ کفرو شرک پر جھکا دیا جاتے ، لیکن مسلمانوں نے لعنت کے اس بار گراں کو نہ اُٹھا یا اور نہ اُٹھاتے گا انشاء اللہ ہاں مسلمانوں کی قربانیوں کا خون مجلس احرار کے سر پر ہے اور رہتی دنیا تک مجلس کے سر رہے گا۔زمیندار ۲۱ جنوری یہ فسادات کا پس منظر ص ) سیفی کا شمیری سابق سیکرٹری مجلس احرار کا مندرجہ ذیل بیان بھی اُن کے مقاصد کو خوب واضح کرتا میں تمام ان مسلمانوں کی خدمت میں جن کے دل میں خدائے قہار و جبار اور اس کے برگزیدہ رسول سرور کائنات حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کی محبت