سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 277 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 277

بطور خاص مکروہ اور قابل نفرین تھا۔اس لیے کہ انہوں نے ایک دنیوی مقصد کیلئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلے کی تو ہین کی اور اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کے لیے ا عوام کے مذہبی جذبات و حسیات سے فائدہ اُٹھایا اس بات پر صرف احرار ہی یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں مخلص تھے کیونکہ ان کی گذشتہ تاریخ استقدر واضح طور پر غیر مستقل رہی ہے کہ کوئی احمق ہی ان کے دعوائے مذہبیت سے دھوکا کھا سکتا ہے۔خواجہ ناظم الدین نے ان کو دشمنان پاکستان قرار دیا اور وہ اپنی گذشتہ سرگر میوں کی وجہ سے اسی لقب کے مستحق تھے؟ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۲۷۷ - ۲۷۸ ) ایک تجربہ کار پاکستان فرمان انور علی کی مندرجہ ذیل رائے ہر محب وطن پاکستانی کے لیے صحیح راہ عمل متعین کرنے اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے میں ہمیشہ مدد گار ثابت ہوگی۔" میری رائے یہ ہے کہ اگر اس ملک کو صحت مند اُصولوں پر ترقی کرنی ہے تو ان سیاسی برو بیوں اور غنڈوں کو جو ایک دوسرے کو گالیاں دیگر مقبول عام بنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو ملک کی سیاسی ترقی میں کوئی تعمیری حصہ نہیں لیتے بے دردی سے دبا دینا چاہیئے۔احراریوں کو یہ احساس ہے کہ مسلم لیگ ان کی پشت پر ہے ورنہ ان کا ماضی اس قدر تاریک ہے کہ انہیں کبھی سیاسی میدان میں داخل ہونے کی جرات نہ ہو سکتی تھی۔یہ کانگریس کے پٹھو تھے ان میں سے بعض اب بھی کانگریس ہی کے وفا دار ہیں۔مشہور احراری حبیب الرحمان تقسیم کے بعد اس صوبے کو چھوڑ کر بھارت چلا گیا۔بعض احراری اپنے دلوں کی گہرائیوں میں اب تک پاکستان کے غدار ہیں۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ۴۹ ) کانگریس سے مجلس احرار کی ساز باز اور مخالف پاکستان ہونے کے متعلق بھی اس رپورٹ میں یہ صراحت موجود ہے کہ : " قوم پرست مسلمانوں کی ایک ٹولی نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے ۴ رمئی 1ء کو لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا۔۔۔۔اگر چہ احراری کا نگریس سے الگ ہو گئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ تقسیم ملک تک برابر کانگریس سے ساز باز کرتے ہی رہے