سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 267
۲۶۷ میں سے بعض کو مقصد وحید کے لیے قربان کیا جائے گا۔یہیں پاکستان کے ارباب حل و عقد کو یہ موقع دینے کے لیے کہ وہ ایسی پالیسی کو جسے وہ صحیح سمجھتے ہیں اچھی طرح چلا سکیں۔تمام مہاجرین کشمیر اور پاکستانی مسلمانوں کو سہولتیں بہم پہنچائی جائیں تا پاکستانی حکومت دلجمعی سے کام کر سکے اور ان نتائج کو پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔جو وہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔یہ میں نہیں کہتا کہ کوئی شخص اپنے اختلاف رائے کو ان لوگوں کے سامنے بھی پیش نہ کرے جو حکام مجاز ہیں۔ان کے سامنے اپنے خیالات کو بغیر جوش اور تعصب کے رکھ دینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہتے کہ اصل کام کی جگہ لڑائی جھگڑوں کے تصفیہ میں وہ لگے رہیں اور اصل کام کا حرج ہو جاتے۔پس تمام مختلف الخیال کشمیری مہاجرین کو اس کام کے لیے اکٹھا ہو جانا چاہیتے اور حکومتِ پاکستان کے مقرر کردہ اداروں سے مل کر اس طرح زور لگانا چاہیئے کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو جائے اور یہ عظیم الشان خطرہ جو ہر وقت پاکستان کے سامنے رہتا ہے کلی طور پر دُور ہو جائے۔یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اول تو اعلان میں کشمیر کے نمائندوں کا نام نہیں ہے۔اگر اہل کشمیر میں سے بعض کو بعض سے اختلاف بھی ہو تو یہ کون کہ سکتا ہے کہ ہر نمائندہ ضرور ان سے اختلاف خیال رکھتا ہو گا ، لیکن اگر فرض کرو ایسا ہو بھی تو کیا چند دنوں کے لیے ایک مخصوص کام کے لیے جس پر کشمیر کے مسلمانوں کی زندگی اور موت کا انحصار ہے وہ صبر سے کام نہیں لے سکتے۔میں تمام اہل کشمیر سے جن پر میرا پہلی جنگ آزادی کی خدمات کی وجہ سے یقیناً حتی ہے کہتا ہوں کہ پاکستانی حکومت کی مذکورہ بالا تجاویز کو کامیاب کرنے کے لیے وہ پوری طرح تعاون کی روح کا مظاہرہ کریں۔کشمیر اگر پاکستان سے ملا تو دوسروں کا ہی نہیں ان کا بھی فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے اور ان اسباب کو دور کر دے جو تفرقہ اور انشقاق کا موجب ہوتے ہیں " الفضل ۱۷ متى -