سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 266 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 266

شمولیت پر زور دیتے ہوئے جس عزم و ثبات کا اظہار کیا ہے میں اس پر آپکو مبارکباد دیتا ہوں۔اگر چہ ہماری جماعت کے نزدیک دولت مشترکہ کی رکنیت بھی اہم ہے لیکن اس کے نزدیک یقیناً پاکستان کی سلامتی اور حفاظت کا سوال اس سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہے۔خیر سگالی کا جذبہ بیشک ایک ناقابل قدر اور نهایت بیش قیمت چیز ہے لیکن اپنے ملک کے مفاد کے لیے ثابت قدمی دکھانا بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔خدا آپ کے ساتھ ہو الفضل ۶ جنوری ۱۹۵۷) کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے استحکام سے متعلق حضور کا مندرجہ ذیل بیان اس بنیادی اہمیت کے مسئلہ سے حضور کی نہ ختم ہونے والی دلچسپی اور جدوجہد کا مظہر ہے۔" حکومت پاکستان کے محکمہ بغیر پورٹ فولیو نے ۰ ارمئی ۹ہ کو ایک اعلان شائع کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے عامہ کے لڑنے کے لیے انہوں نے ایک پالیسی طے کرلی ہے اور اس کے اُصول انہوں نے شائع کر دیتے ہیں اور مختلف کاموں کے لیے سب کمیٹیاں بنادی ہیں۔۔۔اس اعلان سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کشمیر کی جدوجہد کے خاتمہ کا زمانہ اب قریب آرہا ہے اور یہ جد وجہد اب اپنے آخری دور میں داخل ہونے والی ہے۔مجھے چونکہ قدرتاً اس نئی جدوجہد سے دلچسپی ہے جو اس سابقہ سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کا میں صدر رہا ہوں۔مجھے خصوصیت سے یہ تڑپ ہے کہ کشمیر کے مسلمان آزاد ہوں اور اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں سے مل کر اسلام کی ترقی کی جدوجہد میں نمایاں کام کریں اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوتے میں تمام ان لوگوں سے جو کشمیر کے کام سے دلچسپی رکھتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ اب جبکہ آزادی کی یہ تحریک آخری ادوار میں سے گزر رہی ہے اپنی سب طاقتیں اس کی کامیابی کے حصول کے لیے لگا دیں اور ایسی باتوں کو ترک کر دیں جو اس مقصد کے حصول میں روک ثابت ہو سکتی ہوں۔یہ صاف اور سیدھی بات ہے کہ جو اہمیت مقصد کو حاصل ہوتی ہے ذریعہ کو حاصل نہیں ہوتی۔ہم خیال لوگوں کے ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں مگر مقصد الگ الگ نہیں ہو سکتے۔یہ بھی ظاہر امر ہے کہ ایک متحد خیال کو مختلف تدابیر پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔مختلف تدابیر ہی