سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 265 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 265

۲۶۵ " سیکیورٹی کونسل اپنے دوسرے فیصلوں کی طرح کشمیر کا فیصلہ بھی حقائق اور واقعات کی روشنی میں تقاضائے انصاف کے مطابق نہیں کرے گی بلکہ اس کا فیصلہ بین الاقوامی سیاست کے پیش نظر ہو گا " رہنما را ولپنڈی ۱۵ را اپریل 19 تاریخ احمدیت جلد (4) بین الاقوامی حالات اور بڑی طاقتوں کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کی عظمت و اہمیت اور مسلمانان عالم کی ذمہ داریوں کے متعلق حضور نے بروقت متنبہ کرتے ہوئے فرمایا :- " امریکہ اور روس جو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہو رہے ہیں اس مسئلہ میں ایک بستر کے دو ساتھی نظر آتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں بھی یہ دونوں متحد تھے۔دونوں ہی انڈین یونین کی تائید میں تھے اور اب دونوں ہی فلسطین کے مسئلہ میں یہودیوں کی تائید میں ہیں۔آخر یہ اتحاد کیوں ہے ؟ یہ دونوں دشمن مسلمانوں کے خلاف اکٹھے کیوں ہو جاتے ہیں ؟ اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں مگر شاید ایک جواب جو ہمارے لیے خوش کن بھی ہے زیادہ صحیح ہو یعنی دونوں ہی اسلام کی ترقی میں اپنے ارادوں کی پامالی دیکھتے ہوں جس طرح شیر کی آمد کی بُو پا کر گئے اکٹھے ہو جاتے ہیں شاید اسی طرح یہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔شاید یہ دونوں ہی اپنی دور بین نگاہوں سے اسلام کی ترقی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔شاید اسلام کا شیر جو ابھی ہمیں بھی سوتا نظر آتا ہے۔بیداری کی طرف مائل ہے۔شاید اس کے جسم پر ایک خفیف سی کیسی وارد ہو رہی ہے جو ابھی دوستوں کو تو نظر نہیں آتی مگر دشمن اس کو دیکھ چکا ہے اگر یہ ہے تو حال کا خطرہ مستقبل کی ترقی پر دلالت کر رہا ہے ، مگر ساتھ ہی مسلمانوں کی عظیم الشان ذمہ داریاں بھی ان کے سامنے پیش کر رہا ہے " ) الفضل الورمئی ۱۹۴۷ م جنوری شکلہ سے لندن میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم کی کانفرنس ہو رہی تھی۔خان لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر اس کا نفرنس کے ایجنڈا میں شامل نہ کیا جائے گا وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے۔اس بر وقت اور دلیرانہ اقدام پر حضرت مصلح موعود نے انہیں مندرجہ ذیل پیغام دیا :- آپ نے دولت مشترکہ کے وزارا۔اعظم کی کانفرنس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کی