سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 264 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 264

۲۶۴ لاہور وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان مرحوم نے ایک سیاسی میٹنگ میں مجھے کہا کہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے رابطہ قائم کروں۔۔۔۔۔۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب سے رابطہ قائم کیا اور اس سلسلہ میں ان کے ساتھ ستمبر اکتوبر نومبرمیں تین چار ملاقاتیں پریذیڈنٹ مسلم کانفرنس چوہدری حمید اللہ خان صاحب کے ساتھ کیں ہیں ذاتی علم کی بنا پر کہ سکتا ہوں کہ امام جماعت احمدیہ کشمیر کی آزادی کے سلسلہ میں بہت اہم رول ادا کر رہے تھے اور حکومت پاکستان کے وزیراعظم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ اس سلسلہ میں انہیں حمایت حاصل تھی۔۔۔۔۔۔کشمیر کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں جو تڑپ میں نے ان کے دل میں دیکھی ہے وہ دنیا کے بڑے بڑے محب وطنوں میں ہی پائی جاتی ہے۔۔۔میں نے ان جیسی صاف سوچ اور ان جیسا تدبیر بہت کم مدیروں میں دیکھا۔میرا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں، لیکن میں نے میاں بشیر الدین صاحب کا ان جذبات کے لیے ہمیشہ احترام کیا ہے۔میں نے اب تک حضرت مرزا صاحب جیسا عالی دماغ مدیر اور آزادی کشمیر میں مخلص کسی کو نہیں دیکھا " (مقاله قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل ) پاکستان کے لیے کشمیر کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر جس غیر معمولی کوشش و قربانی کی ضرورت تھی۔اس کی طرف نہایت موثر الفاظ میں توجہ دلاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- " ہم تمام مسلمانوں کی توجہ اس طرف پھراتے ہیں کہ اس وقت بخل سے کام نہ لیں کیونکہ کشمیر کا مستقبل پاکستان کے مستقبل سے وابستہ ہے۔آج اچھا کھانے اور اچھا پہننے کا سوال نہیں۔پاکستان کے مسلمانوں کو خود فاقے رہ کر اور نگے رہ کر بھی پاکستان کی مضبوطی کے لیے کوشش کرنی چاہیئے اور جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں پاکستان کی مضبوطی کشمیر کی آزادی کے ساتھ وابستہ ہے " ) الفضل ۱۲ نومبر ۱۳) ملک کے مختلف مقامات پر حضور نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور کشمیر کی آزادی کا پاکستان کی ترقی و استحکام کے ساتھ تعلقی پر لیکچر دیئے اس سلسلہ میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کی یو این او میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت میں مجاہدانہ کوششیں تاریخ پاکستان کا سنہری باب ہے۔تاہم حضرت مصلح موعود کی فراست اور پیش بینی نے بعد میں آنے والی صورت کو بھی خوب سمجھ لیا تھا۔چنانچہ آپ نے فرمایا :