سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 225
۲۲۵ ند میں نے مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔ایسے اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کو بطورنمائندہ بھیجوا دیا تھا، کسی قدریہ نہیں تھی بھی تھی کہ صدر صاحب خود ریاست کی سرحد پر آکر اپنے نمائندگان سے مل گئے ہیں اور تمام حالات معلوم کر گئے ہیں۔ریہ درست ہے میں ہزارے کی طرف جا کر کشمیر کے نمائندوں سے ملا تھا۔اور اُن سے میں نے تمام حالات معلوم کئے تھے ) صدر صاحب کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ مساجد غیرہ کے اعلان میں صدر صاحب اور ہماری منشاء کے خلاف ہمیں اعلان کو جلد شائع کرنے کے لیے کس طرح سے رائے دی گئی۔جو مجبوری کی حد تک پہنچ گئی۔رہیں نے انہیں کہا تھا کہ تم نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔اس پر وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں کشمیر کے نمائندوں نے مجبور کیا تھا کہ ہم اس قسم کا اعلان کر دیں ، آپ نے صدر صاحب کے خیال کو اس شکل میں رکھا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ کسی مفید نتیجہ پر پہنچنے کی غرض سے گفتگو کرنا ہمارا مقصد نہیں۔یہ محض غلط فہمی ہے۔افسوس ہے کہ صد رصاحب نے ہماری مصروفیت اور مشکلات کا اندازہ نہیں کیا ، لیکن ہر بات کا علاج وقت اور میعاد ہے۔صدر صاحب عنقریب یقین کرنے پر تیار ہو جاویں گے کہ ہم معاملہ کولمبا کرنا چاہتے ہیں یا مختصر اور کہاں تک ان کے مشورہ صاحب کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔آپ کے لکھنے کے مطابق صدر صاحب کی خواہش محض مسلمانان کشمیر کو حقوق دلوانے کی ہے جس میں حکومت پورے طور سے خود مصروف ہے۔آپ کا صادق جیون لعل پرسنل اسسٹنٹ ان خطوط سے معلوم ہو سکتا ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا بھی میری تحریک پر کام کر رہی تھی اور کشمیر گورنمنٹ کے وزیر اعظم بھی میرے مشورہ سے ہی کام کرتے تھے۔مگر کچھ عرصہ کے بعد جب کامیابی حاصل ہوئی تو انہوں نے احرار کو اپنے ساتھ ملا کر اس معاملہ کو خراب کرنا شروع کر دیا۔میں نے پھر زور سے مقابلہ شروع کر دیا۔آخر سر ہری کشن کول نے مجبور ہو کہ مجھے لکھا کہ آپ اپنے چیف سیکرٹری کو بھیج دیں۔