سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 226
۲۲۶ مہاراجہ صاحب کہتے ہیں میں خود اُن سے بات کر کے ان معاملات کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔میں نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو بھیج دیا مگر ساتھ ہی انہیں کہ دیا کہ پرائم منسٹر کی کوئی چال کے ہو۔تیسرے دن اُن کا تارپہنچا کہ میں یہاں تین دن سے بیٹھا ہوا ہوں مگر مہاراجہ صاحب ملاقات میں لیت و لعل کر رہے ہیں۔میں نے کہا آپ آن پر حجت تمام کر کے واپس آجائیں۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ پھر ملاقات کی کوشش کی مگر جب انہیں کامیابی نہ ہوئی تو وہ میری ہدایت کے ماتحت واپس آگئے۔چوہدری صاحب کے واپس آنے کے بعد سر ہری کشن کول کا خط آیا کہ مہا راجہ صاحب ملنا تو چاہتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ مرزا صاحب خود آتے تو میں اُن سے ملاقات بھی کرتا۔ان کے سیکر ٹری سے ملاقات کرنے میں تو میری ہتک ہے۔اتفاق کی بات ہے۔اس کے چند دن بعد ہی میں لاہور گیا۔تو سر ہری کشن کول مجھ سے ملنے کے لیے آتے۔میں نے اُن سے کہا کہ مہاراجہ صحاب خود آتے تو میں اُن سے ملاقات بھی کرتا۔آپ تو اُن کے سیکرٹری ہیں۔اور آپ سے ملنے میں میری ہتک ہے۔میرا یہ جواب سن کر وہ سخت گھبرایا۔میں نے کہا پہلے تو میں تم سے ملتا رہا ہوں کیونکہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ سیکرٹری کے ساتھ ملنے سے انسان کی ہتک ہو جاتی ہے۔لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ اگر سیکرٹری سے ملاقات کی جائے تو ہتک ہو جاتی ہے۔اس لیے میں اب تم سے نہیں مل سکتا۔گویا خُدا نے فوری طور پر مجھے اُن سے بدلہ لینے کا موقع عطا فرما دیا۔غرض کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کا تمام کام میرے ذریعہ سے ہوا۔اور اس طرح اللہ تعا نے مجھے اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنایا کہ مصلح موعود اسیروں کا رستگار ہوگا یا الموعود صفحه ۱۵۶ تا ۱۷۴ ) آل انڈیا کمی کیٹی کا مختصر تذکرہ حضور کے الفاظ میں ہم پڑھ چکے ہیں۔درحقیقت کیٹی اس وقت کے مسلمانوں کے دل کی آواز اور ان کے دبے ہوئے جذبات کے اظہار کا ایک بہت ہی کامیاب ذریعہ بن گئی۔قارئین کرام کی دلچسپی کے لیے کشمیر کمیٹی کے قیام کا پس منظر اور اس کیٹی کے ذریعہ ہونے والی اصلاح احوال کا کسی قدر ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔یہاں یہ تصریح بھی بے محل نہ ہو گی که کشمیری مسلمانوں کی خدمت کے لیے حضور نے اس کمیٹی کے قیام سے قبل اور اس کے بعد بھی اپنے آپ کو وقف رکھا۔اس غرض سے عوام کی بیداری اور حکومت تک نہ صرف ہندوستان بلکہ انگلینڈ میں بھی موثر احتجاج کا نہایت عمدہ اہتمام فرمایا۔