سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 224
۴۲۴ یہ اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ آپ اپنی بہترین کوششوں کے ساتھ ایک پر امن ماحول پیدا کریں گے جس سے جلد اور تسلی بخش حل کرنے میں بہت بڑی مدد ملے گی " پرسنل اسسٹنٹ وزیر اعظم کشمیر کا خط دوسرا خط وزیر اعظم کشمیر کے پرسنل اسسٹنٹ کا ہے جو انہوں نے میرے پرائیویٹ سیکرٹری کے نام لکھا۔وہ خط یہ ہے :- سرینگر کشمیر مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۳۷ته مکرمی پرائیویٹ سیکرٹری صاحب تسلیم ! آپ کا گرامی نامه مورخه ۳ ر نومبراستہ جناب حضور والا ان پرائم منسٹر صاحب بہادر کے ملاحظہ سے گذرا مختصراً جواب عرض کرتا ہوں کہ ابتداء سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانان کشمیر کو ابتدائی جائز حقوق دینے میں بے حد جلدی کی جاوے اور خاص طور پر گذشتہ ایک ہفتہ سے تو شب و روز سوائے اس کام کے پرائم منسٹر صاحب کسی دوسرے کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔البتہ دوتین روز کے لیے جموں کے واقعات نے مجبور کیا کہ وہاں پرائم منسٹر صاحب خود تشریف لے جاویں۔جموں کے واقعات نے جس کے ذمہ دار احرارہ ہیں۔معاملہ مطالبات کو قدرے التواء میں ڈال دیا۔اور صدر صاحب کے ساتھ گفت و شنید یا خط و کتابت میں بھی دیر محض اسی وجہ سے ہوئی دلوگ کہتے ہیں کہ احرار کی وجہ سے کشمیر میں کامیابی حاصل ہوتی۔اور وہ یہ کہتے ہیں کہ احرار کی وجہ سے معاملہ مطالبات کے منظور ہونے میں دیر ہو گئی ورنہ بات جلدی ملے ہو جاتی ) علاوہ بریں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نمائندگان مقیمی سرینگر عبدالرحیم صاحب درد اور مولانا اسماعیل غزنوی صاحب کے ساتھ اکثر تبادلۂ خیالات ہو تا رہتا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ آپ کو تبلا سکیں گے اور حکومت ہند نے اس معاملہ میں کس قدر دلچسپی لی ہے۔(دراصل گورنمنٹ کشمیر نے مجھے لکھا تھا کہ اپنے دو نمائندے یہاں بھیجوا دیں جن سے ہم وقتاً فوقتاً گفتگو کرتے رہیں اس پر شد