سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 183
١٨٣ انگریزوں کو توجہ دلا چکا ہوں کہ اس دلیل کا خود ان کو نقصان پہنچے گا۔ان کو صاف کہنا چاہتے کہ ہندوستان کو اس وقت کے رائج الوقت قوانین ملک بازی کے مطابق ہم نے لیا تھا اور اب ہم عدل اور انصاف سے اس پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ انگریز سیاستدانوں کی اس غلط دلیل سے اٹلی اور جرمنی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی دوسرے ملکوں کو تہذیب اور شائستگی سکھائیں گے۔چنانچہ اٹلی والوں نے یہی دلیل ابی سینیا کی جنگ کی تائید میں دی تھی۔۔۔۔۔پس غلطیاں دونوں طرف ہیں اور حالت وہی ہو رہی ہے کہ جو گی جو گی لڑیں اور کھپروں کا نقصان۔جو گی آپس میں لڑنے لگے تو چھپروں کی چھتوں کو توڑ کر لکڑیاں اور سکیں ایک دوسرے کو مارنے کے لیے اُتار لیں۔ان لڑائیوں کے نتیجہ میں وہ قومیں جن کے پاس لڑائی یا حفاظت کے سامان نہیں ہیں تباہ ہو رہی ہیں پس یہ صحیح نہیں کہ ہم ان باتوں سے بے دخل ہو سکتے ہیں۔انگلستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت ایسی ہے کہ جس چیز سے اسے نقصان پہنچے اس سے ہندوستان کو بھی پہنچے گا خواہ ہندوستانی انگریزوں سے بے تعلقی ہی ظاہر کریں۔مثلاً اگر اٹلی والے ابی سینیا میں فوجی مرکز قائم کر کے ہندوستان پر حملہ کریں تو اس سے ہندوستانی ہی مریں گے۔پس ہمارے لیے خاص کر ان قوموں کے لیے جو انگریزوں سے تعلقات رکھتی ہیں بہت خطرات ہیں۔حالات ایسے ہیں کہ انگریز اس جنگ سے باہر نہیں رہ سکتے۔چین اور افغانستان وغیرہ ممالک ممکن ہے بیچ جائیں مگر انگلستان کا ان اثرات سے محفوظ رہنا الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۳۷ ته محال ہے۔حضور جنگ کے حالات بیان کرتے ہوئے قوت واہمہ اور اس کے اثرات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :- موجودہ جنگ میں اسی پروپیگینڈا یا قوت واہمہ کو انگیخت کرنے سے کام لیا جا رہا ہے اور جرمن اس مہتھیار کو خاص طور پر استعمال کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ان کی باتیں دلوں پر زیادہ اثر کرنے لگ گئی ہیں پہلے انہوں نے پولینڈ پر حملہ کیا جہاں انگریز پہنچ نہیں سکتے تھے اور اس ملک کو انہوں نے ترتیغ کر کے فتح کر لیا۔پھر انہوں نے ڈنمارک پر حملہ کیا اور اسے راتوں رات لے گئے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد انہوں نے ناروے پر حملہ کیا اور