سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 184
۱۸۴ وہاں بھی انہیں بہت حد تک کامیابی ہوئی۔پھر بالینڈ پر حملہ کیا اور ایسے بھی جیت لیا۔پھر جرمنی نے بیلجیم پر حملہ کر دیا۔اور یہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت اتحادیوں سے ایک ایسی غلطی ہوگئی جس کا وہ اب تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ غلطی جہاں تک میں سمجھتا ہوں اُن سے اپنی طاقت کے خیال کی وجہ سے ہوئی۔فرانسیسی کمان یہ یقین رکھتی تھی کہ اس کے پاس اتنے سامان ہیں کہ وہ جب بھی چاہے گی اُن سامانوں کو استعمال کر کے جرمنوں کو آگے بڑھنے سے روک دے گی مگر یہ بات غلط ثابت ہوئی، کیونکہ جہاں ان کے پاس سامان زیادہ تھا وہاں انہوں نے اس سامان کو پورے طور پر استعمال نہیں کیا تھا اور جرمنی کے پاس گو سامان کم تھا مگر جو کچھ بھی تھاوہ سب کا سب اپنے استعمال میں لا رہا تھا۔مثلاً جرمنی کے پاس لوہا کم تھا اس گھی کو پورا کرنے کے لیے جرمنی میں اعلان کر دیا گیا کہ ہر جرم کا یہ فرض ہے کہ وہ ہٹلر کو سالگرہ کا تحفہ پیش کرے اور تحفہ یہ ہو کہ اس کے گھر میں جو لوہے کی چیز ہو وہ قوم کے لیے دیدے۔اگر کسی کے گھر زنجیر پڑی ہو تو وہ زنجیر ے آئے۔لوہے کا کوئی کنڈا بے کار پڑا ہو تو دہی لے آتے۔برتن ہیں تو وہی لے آئے انگیٹھیاں ہیں تو وہ پیش کر دے غرض لوہے کی جو چیز بھی کسی کے پاس موجود ہو وہ ہٹلر کو ہدیہ پیش کر دے۔اب اتنے بڑے ملک میں جس کی آٹھ کروڑ کی آبادی ہو تم سمجھ سکتے ہو کہ لوگوں کے گھروں میں کتنا لو ہا ہو گا۔بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ اُن ملکوں میں لوہے کا استعمال نسبتاً زیادہ کیا جاتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے دروازے توڑ دیئے۔جنگے توڑ دیتے چھتیں توڑ دیں اور لوہے کے ڈھیر لگا دیتے حکومت نے اس تمام لوہے کو لیا اور اس سے ٹینک اور جہانہ وغیرہ بنا لیے۔اتحادیوں کے پاس لوہا زیادہ تھا مگر اس کی زیادتی ان کے کسی کام آسکتی تھی جب تک وہ ٹینکوں اور ہوائی جہازوں وغیرہ میں تبدیل نہ ہو جاتا۔اس غلطی کی وجہ سے انہیں یہ خیال رہا کہ ہم جرمنی کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے مگر اُن کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔اب اتحادی بلیم اور با لینڈ وغیرہ پر الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے ہٹلر پر کیوں اعتبار کیا اور کیوں یہ سمجھ لیا کہ وہ اُن کی غیر جانبداری کا احترام کرے گا