سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 182
TAY ہے لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر لڑائی ہوئی تو اس سے بھی زیادہ ذلت ہو گی۔اس وقت سے انگریز بھی برابر سامان جنگ بڑھا رہے ہیں مگر جرمنی اور اٹلی بھی اب بہت سمجھدار ہو رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انگریز شاہ کے آخر تک نہیں لڑ سکتے۔اس لیے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں گو یہ بھی مکن ہے کہ اگر بہت زیادہ مجبور کیا جائے تو برطانوی حکومت عہ میں ہی لڑ پڑے لیکن یوں حکومت کا پروگرام شانہ میں پورا ہو گا۔ابی سینیا کے بعد اٹلی نے سپین میں سوال اُٹھا دیا ہے۔انگریزی اخبارات کے بیان کے مطابق اٹلی والوں کا ڈھنگ عجیب ہے وہ ایک کام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ صلح کی ہر مجلس میں بھی شریک ہوتے ہیں اور جب صلح کی تجاویز ان کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو کہ دیتے ہیں کہ ہم سوچ کر جواب دیں گے۔اس سوچنے کے دوران میں حملہ بھی جاری رکھتے ہیں اور جب وہ علاقہ فتح ہو جاتا ہے یا کام ختم ہو جاتا ہے تو کہ دیتے ہیں کہ ہم تو صلح پر تیار تھے مگر افسوس اب تو وہ علاقہ فتح ہی ہو گیا۔اور پھر کسی اور جگہ پر اپنا رسوخ بڑھانے لگ جاتے ہیں۔اور پھر جب انگریز اور فرانسیسی سوال اُٹھاتے ہیں تو کہ دیتے ہیں کہ یہ معاملہ ذرا پیچیدہ ہے سوچ سمجھ کر جواب دیں گے۔ادھر برطانیہ اور فرانس بھی جانتے ہیں کہ اس سوچنے کا کیا مطلب ہے گر کر کچھ نہیں سکتے۔مثلاً آج کل والنٹیروں کا سوال ہے اٹلی اور جرمنی سے برابر وانٹیر سپین جا رہے ہیں۔انگریز اور فرانسیسی کتنے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔اٹلی اور جرمن والے کہتے ہیں کہ اچھا ہم غور کر کے جواب دیں گے مگر ساتھ ہی ۲۲ دسمبر ۱۹۳۷ء سے ۲ جنوری تہ تک دس ہزار والنٹیر اٹلی سے اور دس ہزار جرمنی سے پین پہنچ گئے ہیں۔باغیوں نے ساٹھ ہزار کا مطالبہ کیا تھا اگر یہ درست ہے تو غالباً جب ساٹھ ہزارہ آدمی پہنچ جائیگا پھر یہ اقدام کہ دیں گی کہ اچھا اب والنٹیر روانہ نہ کئے جائیں۔اگر غور کیا جائے تو اصل میں یہ قصور دونوں کا ہے، اٹلی والے دیکھتے ہیں کراس اور انگلستان کے پاس بہت سی نو آبادیات ہیں اور ہمارے پاس کوئی نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ یہ دوسرے ملکوں سے فائدہ اُٹھائیں اور تم نہ اٹھا ئیں۔چونکہ انگلستان کے بعض مقتدر مصنف اور سیاست دان غلطی سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو تہذیب اور شائستگی سکھانے جاتے ہیں جو بات غلط ہے اور میں بار بار اسکے متعلق