سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 181
سکے گی۔۔HAI ۱۹۲ہ کی مجلس مشاورت میں میں نے کہا تھا۔قریب ہے کہ چند سال کے اندر اندر قومیں فیصلہ کر لیں کہ کون زندہ رہنے کے قابل ہے اور کسے برباد ہو جانا چاہیئے" (الفضل ۲۸ مارچ ة ) حضور نے اس عظیم تباہی کے وقت ایک دور اندیش صاحب فراست پر ہنما کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ کے فریقین اور عوام کو ایسے ایسے قیمتی مشورے دیئے جن سے عقل حیران رہ جاتی ہے۔مزید براک آپ نے جنگ میں بعض ناقابل یقین اور اچانک تغیرات کے متعلق اپنے رویا۔دوکشوف سے ثابت کیا کہ آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جن سے قوموں کا برکت پانا مقدر ہے۔ویسے تو اب ان تفصیلات میں وہ دلچسپی نہیں ہو سکتی جو جنگ کے دوران ہو سکتی تھی پھر بھی حضور کی علو ہمتی دُور اندیشی و فراست اور خُدائی تائید کے اظہار کے طور پر حضور کے بعض ارشادات کا مطالعہ باعث دلچسپی ہو گا۔حضور نے اپنے اس مئی الہ کے خطبہ جمعہ میں جنگ کے حالات کا اس تفصیل و خوبی سے جائزہ لیا ہے کہ کم ہی کسی جرنیل نے جو بذات خود جنگ کی کمان کر رہا ہو اس طرح جائزہ لیا ہو گا۔اُس دور کی استحصال و استعماریت کی ظالمانہ ذہنیت کا ذکر کرنے کے بعد ایک عالمگیر خوفناک تباہی کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " میں اس وقت جماعت کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس زمانہ میں پھر دنیا میں شدید تغیرات پیدا ہو رہے ہیں اور عنقریب شدید لڑائی لڑی جانے والی ہے جو انگریزوں و جرمنوں کی گذشتہ جنگ سے بھی سخت ہوگی۔یہ اس وقت تک اس وجہ سے کرکی ہوئی ہے کہ انگریز ابھی تیار نہیں۔اگر تیار ہوتے تو امی نے جس وقت حبشہ پر حملہ کیا تھا اسی وقت جنگ چھڑ جاتی۔جنگ عظیم کے بعد انگریز بیچارے تو صلح صلح پکارتے رہے اور یورپ کی دوسری قومیں اپنی فوجی طاقت کو بڑھاتی رہیں اور اب نتیجہ یہ ہے کہ اٹلی جو چھوٹا سا ملک ہے خم ٹھونک کر چھیلنج دے رہا ہے اور انگریز خاموش ہیں۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ انگریز لڑنا نہیں چاہتے بے شک انگریزوں میں بعض ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر جرمنی انگلستان پر بھی قبضہ کرلے تو کیا۔اور ایک لیبر لیڈر نے تو اس قسم کی ایک تقریر حال ہی میں کی ہے۔مگر بعض ایسے بھی تھے جو محسوس کر رہے تھے کہ ہماری ذلت ہو رہی