سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 141
۱۴۱ ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- " چند سال ہوتے کہ میں ایک دفعہ برف دیکھنے کے لیے ڈلہوزی گیا وہاں پر میں دوسپر کے وقت تھوڑی دیر کے لیے بیٹھا تو مجھے الہام ہوا کہ دنیا میں امن کے قیام اور کمیونزم کے مقابلہ کے لیے سارے گر سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں۔مجھے اس کی تغیر سمجھائی گئی جو عرفانی طور پر تھی نہ کہ تفصیلی طور پر۔عرفان کے معنی یہ ہیں کہ دل میں ملکہ پیدا کر دیا جاتا ہے لیکن وہ تفصیلی الفاظ میں نہیں نازل ہوتی۔کچھ دنوں کے بعد دوستوں سے اس کا ذکر آیا اور دہ پوچھتے رہے کہ اس کی کیا تفسیر ہے۔میں نے کہا کہ میں کبھی اس کے متعلق مفصل رسالہ لکھوں گا۔خصوصاً جب مخالف دعوای کرے کہ اس کے پاس ان دونوں کا جواب موجود ہے لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت تھی کہ مجھے اب تک یہ رسالہ لکھنے کا موقعہ نہ ملا۔اب جبکہ میں بیمار ہو گیا ہوں اور بظاہر اس کا موقعہ ملنا مشکل ہے میں نے مناسب سمجھا کہ خواہ اشارہ ہی چند الفاظ میں ہو میں اس کا مضمون بیان کرتا رہوں تادہ علماء کے کام آتے اور وہ اس سے فائدہ اُٹھا سکیں " ) الفضل ریوه ۳۱ رمتی ۱۹۵۵ ) چنانچہ اس موضوع پر حضور نے پر معارف خطبات ارشاد فرمائے جو اخبار الفضل میں چھپ چکے ہیں۔عظمت قرآن : فرشتوں کے ذریعہ خدائی تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں آپ کو قرآن مجید سے جو قلبی لگاؤ پیدا ہوا اور جو قرآنی عظمت و شان آپ پر عیاں ہوئی اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- " میں نے تو آج تک نہ کوئی ایسی کتاب دیکھی اور نہ مجھے کوئی ایسا آدمی ملا جس نے مجھے کوئی ایسی بات بتائی ہو جو قرآن کریم کی تعلیم سے بڑھ کر ہو یا قرآن کریم کی کسی غلطی کو ظاہر کر رہی ہو یا کم از کم قرآن کریم کی تعلیم کے برا بر ہی ہو۔تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو خداتعالی نے وہ علم بخشا ہے جس کے سامنے تمام علوم ایچ ہیں۔چودہویں صدی علمی ترقی کے لحاظ سے ایک ممتاز صدی ہے۔اس میں بڑے بڑے علوم نکلے ، بڑی بڑی ایجادیں ہوتیں اور بڑے بڑے سائنس کے عقدے حل ہوتے مگر یہ تمام علوم حمدصلی الہ علیہ سلم کےعلم کی گرد کوبھی نہیں پہنچ سکے۔(الفضل ۱۳۰ جون ۳ )