سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 140 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 140

۱۴۰ مجھے سکھا دی۔جب میری آنکھ کھلی تو اس وقت فرشتہ کی سکھاتی ہوئی باتوں میں سے کچھ باتیں مجھے یاد تھیں مگر میں نے ان کو نوٹ نہ کیا۔دوسرے دن حضرت خلیفہ اول سے میں نے اس رویا کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے کچھ باتیں یاد تھیں مگر میں نے ان کو نوٹ نہ کیا اور اب وہ میرے ذہن سے اُتر گئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول پیار سے فرمانے لگے کہ آپ ہی تمام علم لے لیا۔کچھ یاد رکھتے تو ہمیں بھی سناتے۔یہ رویا۔اصل میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بیج کے طور پر میرے دل اور دماغ میں قرآنی علوم کا ایک خزانہ رکھ دیا ہے۔چنانچہ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا کبھی کسی ایک موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سورۃ فاتحہ پر غور کیا ہو یا اس کے متعلق کوئی مضمون بیان کیا ہو تو اللہ تعالے کی طرف سے نئے سے نئے معارف اور نئے سے نئے علوم مجھے عطا نہ فرمائے گئے ہوں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے قرآن کریم کے تمام مشکل مضامین مجھ پر حل کر دیتے ہیں یہاں تک کہ بعض ایسی آیات جن کے متعلق حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان کے معانی کے متعلق پوری تسلی نہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان آیات کے معانی بھی مجھ پر کھول دیئے گئے ہیں " ( الموعود صفحه ۸۴ تا ۸۶ ) اسی طرح آپ فرماتے ہیں : سمہ حضرت خلیفہ اول کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن پڑھنا چاہتا ہوں۔اس وقت ان سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی۔میں نے عذر کیا مگر انہوں نے اصرار کیا میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الہی ہے۔آخر میں نے ان کو شروع کر دیا ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ (البقره : ۱۳۰) سورة بقره کی کلید ہے اور اس سورۃ کی ترتیب کا راز اس میں رکھا گیا۔اس کے ساتھ ہی سورۃ بقرہ کی ترتیب پورے طور پر میری سمجھ میں آگئی یا ر منصب خلافت صفحه ۱۲-۱۳ ) اپنی عمر کے آخری حصے میں شدید بیماری کے دوران جب حضور بغرض علاج بیرون ملک گئے ہوتے تھے۔خدمت قرآن کے مقدس فریضہ کی ادائیگی کا سلسلہ وہاں بھی جاری تھا۔اس سلسلہ میں الہی تائید کا دید