سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 142 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 142

۱۴۲ اپنی شہرہ آفاق تقریر سیر روحانی میں آپ فرماتے ہیں :- پس اے دوستو ! میں اللہ تعالے کے اس عظیم الشان خزانہ سے تمہیں مطلع کرتا ہوں دُنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔دنیا کی تمام تحقیقاتیں اس کے مقابلہ میں پیچ ہیں اور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میں اتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میں ایک کرم شب تاب حقیقت رکھتا ہے۔دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں۔قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معارف و حقائق کا حامل ہے۔یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لیے گھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لیے کھلا ہے۔یہ ابوبکر رض کے لیے بھی کھلا تھا یہ عمرہ کے لیے بھی کھلا تھا۔یہ عثمان کے لیے بھی کھلا تھا۔یہ علی نے کے لیے بھی کھلا تھا۔یہ بعد میں آنے والے ہزار ہا اولیا۔وصلحاء کے لیے بھی کھلا تھا اور آج جبکہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی کھلا ہے بلکہ جس طرح دنیوی علوم میں آج کل زیادتی ہو رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آج کل نئے سے نئے نکل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ہمیشہ ہی قرآن نئے سے نئے علوم پیش کرتا رہے گا۔یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنا ہماری جماعت کا اولین فرض ہے۔۔۔۔۔یہی وہ خزائن ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقسیم کئے اور یہی وہ خرائن ہیں جو آج ہم تقسیم کر رہے ہیں۔دنیا اگر حملہ کرتی ہے تو پرواہ نہیں وہ دشمنی کرتی ہے تو سو بار کرے وہ عداوت و عناد کا مظاہرہ کرتی ہے تو لاکھ بار کرے ہم اپنے فرض کی ادائیگی سے غافل ہونے والے نہیں۔ہم انہیں کہتے ہیں کہ تم بینک ہمارے سینوں میں خنجر مارے جاؤ۔اگر ہم مرگئے تو یہ کہتے ہوتے مریں گے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے مارے گئے ہیں اور اگر جیت گئے تو یہ کہتے ہوئے جیتیں گے کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں بلند کر دیا ( سیر روحانی صفحه ۱۱۷ - ۱۱۸) اسی طرح آپ فرماتے ہیں :۔"ہم نے صرف قرآن کے لفظوں کو نہیں دیکھا بلکہ ہم خود اس کی محبت کی آگ میں داخل ہوتے اور وہ ہمارے وجود میں داخل ہوگئی۔ہمارے دلوں نے اس کی گرمی کو محسوس کیا اور