سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 135 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 135

۱۳۵ زور لگانا چاہتے کہ آپ اچھے ہو جائیں۔آپ جب تک یہ خیال نہ کریں کہ میں اچھا ہوں۔اس وقت تک آپ کو کوئی دوائی فائدہ نہیں دے سکتی۔میں نے کہا جب مجھے نظر آتا ہے کہ میں بیمار ہوں تو میں اپنے آپ کو تندرست کیسے خیال کر لوں۔وہ کہنے لگا چاہے آپ کو سیسی نظر آتا ہے کہ آپ بیمار ہیں لیکن جب تک آپ یہ خیال نہیں کریں گے کہ آپ تندرست ہیں اس وقت تک آپ تندرست نہیں ہو سکتے۔میں نے کہا اچھا پھر آپ مجھے ایسی دوائی دیں جس کے استعمال سے میں بُھول جاؤں کہ میں بیمار ہوں تو وہ کہنے لگا یہی بات تو میں کہہ رہا ہوں کہ اس کا ہمیں پتہ نہیں۔اگر کوئی فائدہ ہو تو پھر میں وہاں جانے کی کوشش بھی کروں۔ورنہ خواہ مخواہ اپنے دوستوں اور عزیزوں سے جُدا بھی ہوں اور کوئی فائدہ بھی نہ ہو تو وہاں جانے کا فائدہ کیا ہے۔میں اس ٹوہ میں لگا رہتا ہوں کہ اس بیماری کا کوئی علاج نکل آئے تو میں اس سے فائدہ اُٹھاؤں۔رسالوں اور اخباروں میں اس بیماری کے متعلق جو مضامین چھپتے ہیں میں ان کا خیال رکھتا ہوں۔پچھلے دنوں امریکہ سے ایسی خبریں آئی تھیں کہ فالج کا بڑا یقینی علاج نکل آیا ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی زیر تجربہ ہے۔ابھی اس پر مزید چار پانچ سال لگ جائیں گے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کے جتنے تجربے ہوتے ہیں۔اس سے یقینی اور سو فیصدی فائدہ ہوا ہے۔ڈاکٹر حیران تھے اور کہتے تھے کہ آپ کا فالج عجیب ہے فالج والوں کے ہاتھ ٹیڑھے ہو جاتے ہیں میرے ہاتھ کی صرف حسن میں فرق ہے۔ذراسی گرم چیز بھی ہاتھ میں پکڑوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں نے آگ کا انگارا ہاتھ میں پکڑ لیا ہے۔۔پس اگر بیماری کا کچھ حصہ باقی ہے تو وہ دُعاؤں کے ساتھ دُور ہو گا۔اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا اور سلسلہ کی خدمت کی توفیق دینا اس کے مدنظر ہوگا تو وہ تو فیق دے دیگا۔میں تو ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پڑھ کر حیران ہوا کرتا تھا کہ آپ کے اس الہام کا کیا مطلب ہے کہ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ أَن يُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرُكُمُ تَطْهِيرًا ------ جب مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تو میں نے سمجھا کہ یہ بیماری آئی ہے کئی قسم کے ریس دُور کرنے کے لیے۔مثلاً ایک رجیں تو بہ دُور ہوا کہ پہلے احمدی سمجھتے تھے کہ میں نے پانچ چھ سو سال زندہ رہنا ہے۔م