سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 136
بیماری آئی تو انہیں ہوش آگیا کہ ہم بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔تو ایک رجسں تو یہ دُور ہوا کہ جماعت میں یہ غلط خیال پیدا ہو گیا تھا کہ خلیفہ المسیح قیامت تک زندہ رہیں گے ہمیں کوئی فکر نہیں یہ ہمارا کام کرتے رہیں گے۔دوسرار جس یہ تھا کہ حضرت خلیفہ البیع الاول کی اولاد کو یہ خیال تھا کہ ہم خلیفہ بنیں گے۔اگر میں بہار نہ ہوتا اور ان کو پتہ نہ گلتا کہ میں پاکستان سے باہر گیا ہوں تو وہ اس طرح دلیری سے آگے آتے ہیں اس واقعہ نے اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البيت والی بات کو پورا کر دیا۔خدا تعالیٰ کا منشا یہی ہے کہ وہ ان باتوں سے جماعت کو ہوشیار کرتا رہے۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد جب اخبار میں چھپتا ہے کہ طبیعت اچھی نہیں تو جماعت میں بیداری پیدا ہوتی ہے اور انہیں بیماری کا احساس ہوتا ہے۔ادھر کچھ دعائیں ہوتی ہیں اور کچھ منافقوں کی منافقت ظاہر ہوتی ہے۔اب مثلاً ہماری جماعت کو اس قسم کا اخلاص دکھانے کا جو موقعہ ملا ہے اور کل جو خلافت کے استحکام کے لیے ریزولیوشن پیش کئے گئے دراصل یہ وہی بات تھی کہ خدا تعالیٰ نے جماعت سے رجس کو دور کیا اور جماعت کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ ہم نے خلافت کا جھنڈا ہمیشہ کھڑا رکھنا ہے اگر یہ بیماری نہ ہوتی تو یہ باتیں بھی پیدا نہ ہوئیں پس میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ بیماری محض تطہیر کے لیے ہے۔یہ بیماری اس لیے ہے کہ جماعت کی اصلاح ہو اور ہم سلسلہ کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔اس کے لیے نہیں خدا تعالیٰ سے بھی دُعائیں کرنی چاہئیں۔کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ موجودہ عارضوں کو بھی دور رپورٹ مشاورت ۱۹۵۷ - صفحه ۱۵ تا ۱۱۹ ) کر دے