سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 134
پھر سارا سال خروج میں تنگی کرنی پڑی۔میرے ایک بیٹے کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور اس کچھ کام کیا تو اس جلسہ پر میں نے اعلان کیا کہ وہ قرضہ میں نے اس حد تک ادا کر دیا ہے لیکن کچھ حصہ قرضہ کا ابھی باقی ہے جو میں چاہتا ہوں کہ اپنے سامنے ادا کر دوں۔اس طرح بچوں کو بھی توجہ رہتی ہے کہ وہ قرضہ ادا کریں۔ہر حال خدا تعالیٰ میں سب طاقتیں ہیں۔جو خدا باہر جا کر صحت دے سکتا ہے وہ یہاں بھی ایسے سامان کر سکتا ہے کہ میری صحت میں ترقی ہو جاتے۔پچھلی دفعہ بھی میں باہر جانے پر راضی نہیں تھا مگر سامان ایسے ہو گئے کہ مجھے باہر جانا پڑا۔میں یکدم ایسا بیمار ہو گیا کہ ڈاکٹروں نے رائے دی کہ میں باہر چلا جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹروں نے کہا اب دوائیں ختم ہو چکی ہیں دوائیں اب آپ کو فائدہ نہیں دے سکتیں اب ایک ہی علاج ہے کہ آپ فورا باہر چلے جائیں یورپ کی جو آب و ہوا ہے وہ آپ کو مفید پڑے گی۔۔۔۔۔۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جب ہم وہاں پہنچے تو میں فوراً کچھ نہ کچھ چلنے پھرنے لگ گیا اور جسم میں طاقت آگئی۔واپس آکر جو صحت میں پروگریس PROGRESS ہوتی ہے وہ ظاہر ہی ہے۔سولہ میں میں نے مجلس شوری میں کچھ کام کیا تھا لہ میں میں بیمار ہو گیا اس لیے اس سال شوری میں میں نہ آسکا۔1907ء میں بھی میں صرف ایک دن اجلاس میں آیا تھا اور پھر واپس چلا گیا تھا۔کوئی کام نہیں کیا تھا۔آج کہ میں چار سال کے بعد پھر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے کہ میں شوری میں تمام اجلاسوں میں شریک ہوا ہوں اور کام بھی کیا ہے۔یہ الہ تعالی کا فضل ہے کہ میری صحت میں ترقی ہوئی اور ہو رہی ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی نمایاں فرق نہیں پڑا۔مثلاً ہاتھوں میں جو بے حسی تھی وہ ابھی تک دُور نہیں ہوتی۔اس سے بعض اوقات بڑی گھرا ہٹ ہو جاتی ہے۔پیر کی انگلیاں اندر کو کھپتی ہیں اور ہاتھ بے حس ہو جاتا ہے۔ہوتی تو یہ مذاق کی بات ہے لیکن گھر میں میرا کوئی چھوٹا پوتا یا نواسہ آجائے تو وہ بیمار نہیں سمجھتا۔وہ میرا ہاتھ پکڑے تو میں فوراً گھبرا جاتا ہوں کہ کیا ہوگیا ہے اور میرا ہاتھ کدھر چلا گیا ہے۔غرض ان چیزوں کو کوئی نمایاں فائدہ نہیں ہوا۔پس جب تک مجھے یقین نہ ہو جاتے کہ یورپ میں کوئی نیا علاج نکل آیا ہے اس وقت تک میرا وہاں جانا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔سوئٹزر لینڈ میں جس ڈاکٹر کے زیر علاج تھا اس نے کہا کہ آپ کو خود