سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 133 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 133

۱۳۳ " یہ بات تو ڈاکٹروں کی مرضی پر ہے۔میں جب ولایت سے واپس آیا تھا تو چونکہ وہاں موسم ایک قسم کا رہتا ہے اور یہاں بدلتا رہتا ہے اس لیے مجھے وہاں یقینا فائدہ ہوا اس سال جلسہ سالانہ پر میری طبیعت اچھی رہی لیکن بعد میں جنوری سے فروری تک جو بارشیں شروع ہو تیں اور پھر گر کی ہی نہیں۔روزانہ بارش ہوتی رہتی ہے اس سے طبیعت خراب ہو گئی۔کل خدا تعالیٰ کے فضل سے باوجود کام کرنے کے طبیعت بحال رہی۔اسی طرح آج بھی کچھ نہ کچھ کام کرنے کی توفیق مل گئی۔اس قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہیں کے متعلق میں سمجھوں کہ کام میں روک پیدا ہوتی ہے، لیکن جب تک ڈاکٹری مشورہ نہ ہوئیں کہیں نہیں جا سکتا۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر کئے تو پھر تو حکم ہو گیا۔اور اس صورت میں مجبوری ہوتی ہے۔میں نے بعض ڈاکٹروں سے بات کی ہے انہوں نے ملک سے باہر جانے کا مشورہ نہیں دیا۔انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت حالت اور ہے اور جب ہم نے یورپ جانے کا مشورہ دیا تھا اس وقت حالت اور تھی۔اس وقت ضروری تھا کہ ہم آپ سے یورپ جانے کے لیے کہتے لیکن اب ہم نہیں کہ سکتے اگر ہمیں نظر آیا کہ آپ کو وہاں جانے سے فائدہ ہوگا تو ہم پھر کہیں گے کہ آپ یورپ چلے جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب میں پچھلی دفعہ یورپ گیا تھا تو گو اب اتنے قافلہ کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن اس وقت میں اپنی بیویوں کو بھی ساتھ لے گیا تھا اور ان بچوں کو بھی ساتھ لے گیا تھا جن کی مائیں پیچھے نہیں تھیں۔جماعت کے دوستوں نے جو چندہ جمع کیا تھا اس کے علاوہ میرا ۳۸ ہزار روپیہ خرچ ہو گیا۔واپس آکر میں نے ۳۸ ہزار روپیہ میں ۳۲ ۳۳۱ ہزار روپیہ ادا کر دیا ہے 44 ہزار روپیہ ابھی ادا کرنا باقی ہے۔ابھی میں وہی ادا کر رہا ہوں۔اس لیے ابھی اس بات کا سوال پیدا نہیں ہوتا کہ میں کہیں باہر جاؤں کیونکہ ابھی پچھلے سفر کا قرضہ مجھے پر باقی ہے۔جو چیزیں ایسی تھیں جو کہ لفظاً اس ریزولیوشن کے نیچے آتی تھیں جو جماعت نے پاس کیا تھا مثلاً میرا کرایہ یا میری ڈاکٹری فیس وہ تو میں نے چندہ سے لے لیا۔باقی جو بیویوں اور بچوں کے اخراجات تھے وہ میں نے خود سارے کے سارے ادا کئے تاکہ جماعت پر بوجھ نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔جب میں یورپ گیا تھا تو میں اپنے پیچھے اپنے ایک داماد کو کام سپرد کرگیا تھا اسے کام کا تجربہ نہیں تھا اس لیے میری غیر حاضری میں اس نے مجھے بہت مقروض کر دیا۔